دہلی فسادات کیس: 10 ماہ میں بھی تحقیقات مکمل نہیں ہوئی

   

پولیس کی لاپرواہی کا نیا ریکارڈ ، دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی کا جائزہ

نئی دہلی : دہلی فسادات کی تحقیقات میں غیرمعمولی تاخیر کی جارہی ہے، اس سلسلے میں دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی نے تحقیقات میں تاخیر کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے پولیس کے تساہل کا جائزہ لینا شروع کیا ہے۔ دہلی حکومت کے عہدیداروں کے ذریعہ فساد متاثرین کے سروے میں لاپرواہی ہونے کے بعد دہلی پولیس کی لاپرواہی کا نیا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ اقلیتی فلاحی کمیٹی کے سامنے تقریباً 22 عاملے سامنے آئے ہیں جن کی جانچ مقامی افسر آئی او 10 مہینے کے گذر جانے کے بعد بھی پوری نہیں کرسکے ہیں۔ اس کی وجہ سے جانچ رپورٹ پیش نہیں کی جاسکے۔ اس پوری صورتحال میں میڈیکل بھی نہیں کرایا گیا۔ اس کا متاثرین بھی سیدھا اثر یہ ہوا کہ دہلی حکومت کے ذریعہ اعلان کردہ معاوضہ کی پھوٹی کوڑی بھی نہیں مل سکی۔ متاثرین کی ایسی فہرست پر پرنسپل ہوم سیکریٹری سے اگلے اجلاس میں کارروائی کی اسٹیٹس رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ دہلی فساد میں متاثرہ سینکڑوں تاجرین میں 32 افراد ایسے پائے گئے ہیں جن کو لاکھوں کے نقصان کے باوجود حکومت کی اعلان شدہ پالیسی سے بہت کم معاوضہ ملا ہے بلکہ ان میں سے 20 افراد کا معاوضہ صفر رہا جبکہ 12 افراد کو بہت ہی کم معاوضہ دیا گیا۔ دہلی اقلیتی فلاحی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں بھی ایسے کئی معاملات زیربحث آئے تھے۔ فسادات میں ہمہ منزلہ عمارتیں بھی تباہ ہوگئی تھیں۔ گھر کا تمام سامان فسادی لوٹ لے گئے یا پھر اسے نذرآتش کردیا گیا۔ مگر معاوضہ کے نام پر متاثرین کو کچھ نہیں ملا۔