حیدرآباد۔20فروری(سیاست نیوز) دہلی میں ہوئے 2020 کے فسادات میں اشفاق حسین اور ذاکر کے قتل میں ملوث 4 نوجوانوں اشوک ‘ اجئے ‘ شبھم کے علاوہ جتیندر کمار کو الزامات منصوبہ سے عدالت نے بری کردیا۔ اڈیشنل سیشن جج پلستیا پرم چالہ کی عدالت نے 4ملزمین پر دو علحدہ مقدمات میں فیصلہ سناتے ہوئے انہیں بری کرنے احکام جاری کردیئے ۔ عدالت نے سماعت کے بعد فیصلہ میںکہا کہ اشفاق اور ذاکر کو برج پوری میں جہاں قتل کیا گیا تھا اس کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں اور استغاثہ 4 ملزمین کے بلوائیوں میں شامل ہونے کے ثبوت پیش کرنے سے قاصر رہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ دونوں مقتول کے قتل میں جن نوجوانوں کو ماخوذ کیا گیا تھا ان کے خلاف کوئی شواہد یا ثبوت دستیاب نہیں ہوئے اور نہ ہی بلوائی اس وقت وہاں موجود تھے اسی لئے عدالت انہیں الزامات سے بری کرنے احکام جاری کرتی ہے۔عدالت نے ان چاروں ملزمین کے فسادیوں میں شامل ہونے سے متعلق رائے میں کہا کہ اس فساد میں ملوث بلوائیوں کے خلاف استغاثہ نے جو عینی شاہدین پیش کئے تھے ان کے بیان تبدیل کردیئے جانے کے بعد کوئی گواہی یا ثبوت باقی نہیں رہتا اسی لئے انہیں فساد برپا کرنے والوں میں بھی شمار نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے کہا کہ کال ریکارڈس کی بنیاد پر قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتاکہ مذکورہ شخص اس مقام پر موجود تھا یا اسے ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے کہا کہ استغاثہ نے جو ہتھیار کے طور پر استعمال کی گئی تیز دھار اشیاء عدالت میں پیش کی ہیں ان کی فارنسک جانچ نہیں کروائی جس کے نتیجہ میں یہ بات وثوق سے نہیں کی جاسکتی کہ ان ہتھیاروں پر موجود خون متوفی نوجوانوں کا ہے۔ اسی طرح عدالت میں استغاثہ کی جانب سے وہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نہیں پیش کیا گیا جس میں غیر قانونی طور پر اکٹھا ہجوم نے اشفاق و ذاکر کا قتل کیا اس ویڈیو میں ملزمین کے موجود ہونے کادعویٰ کیا جاتا رہاہے۔3