ریلوے انتظامیہ کو ہائیکورٹ کی ہدایت۔ دونوں مساجد وقف املاک
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے چہارشنبہ کے روز ریلوے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ اپنی زمین سے مبینہ غیر مجاز ڈھانچوں اورمبینہ تجاوزات کو ہٹانے کے لیے دو مساجد پر چسپاں کیے گئے نوٹس پر مزید کوئی کارروائی نہ کرے۔ جسٹس پرتیک جالان نے دہلی وقف بورڈ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ درخواست میں ریلوے پل اور بابر روڈ ریلوے لائن کے قریب واقع مسجد تکیہ بابر شاہ اور بنگالی مارکیٹ مسجد کی دیواروں پر چسپاں دو نوٹسز کو چیلنج کیا گیا ہے۔ بورڈ نے استدلال کیا ہے کہ دونوں مساجد وقف املاک ہیں، اور یہ کہ نہ تو ان کے نیچے کی زمین ریلوے کی ہے اور نہ ہی مسجدیں غیر مجاز تعمیرات ہیں۔اس کے بعد جج نے حکم دیا کہ فی الحال ان نوٹسز کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ بورڈ کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی نوٹس جس پر کوئی دستخط اور تاریخ نہیں تھی اسے براہ راست نہیں بھیجا گیا۔ نوٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جواب دہندہ (ریلوے) یہ کارروائی بدنیتی سے، من مانی اور بغیر کسی معقول وجہ کے مساجد کو منہدم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ چونکہ نوٹس میں مخصوص تاریخ اور دستخط نہیں ہیں اور اسے بورڈ کے دفتر بھیجنے کے بجائے مساجد پر چسپاں کیا گیا ہے اس لیے خدشہ ہے کہ عدالت کی ہدایت تک ریلوے بغیر کسی پابندی کے کام جاری رکھے گا۔
