امتحانات کا بائیکاٹ ، شہریت ترمیمی قانون سے دستبرداری کا مطالبہ
حیدرآباد۔16ڈسمبر(سیاست نیوز) دہلی اور علی گڑھ میں پولیس کی جانب سے کی جانے والی ظالمانہ کاروائی کے خلاف مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں کل رات سے شروع کئے گئے احتجاج کا سلسلہ آج دن میں بھی جاری رہااور طلبہ نے دن بھر مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کاروائی کی مذمت کی۔ مرکزی حکومت کے زیر انتظام دہلی پولیس کی جانب سے جامعہ میں کی گئی کاروائی کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی طلبہ یونین نے حکومت کی ایماء پر طلبہ کی آواز کو کچلنے کی کوشش قراردیتے ہوئے کہا کہ ملک میں انقلاب کی شروعات کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کوئی بھی انقلاب طاقت کے بل پر روکا نہیں جاسکتا اسی لئے حکومت کو ان حالات کو محسوس کرتے ہوئے شہریت ترمیم بل سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے عوامی جذبات کے احترام کا اعلان کرنا چاہئے ۔ مولانا آزاد یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر جناب عمر فاروق نے کہا کہ طلبہ نے فیصلہ کیا ہے کہ امتحانات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج میں شدت پیدا کی جائے اور اس احتجاج کو پرامن بنائے رکھنے کے لئے طلبہ کو پابند کیا گیا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ اردو یونیورسٹی طلبہ کی جانب سے ضرورت پڑنے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال یا زنجیری بھوک ہڑتال بھی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں حاصل حقوق کے مطابق وہ احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں اور ساتھی طلبہ پر ہونے والے ظالمانہ حملوں پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔جناب عمر فاروق نے کہا کہ مرکزی حکومت نے دستور کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن بحیثیت ہندستانی ہم دستور کی پامالی کو برداشت نہیں کریں گے اور دستور کے تحفظ کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں گذشتہ شب شروع ہوئے احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ شریک ہیں جو کہ 24 گھنٹے سے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ طلبہ کے ہاتھوں میں مخالف این آر سی اور مخالف سی اے اے پلے کارڈس کے علاوہ قومی پرچم موجود ہیں ۔طلبہ کا کہناہے کہ وہ کسی بھی قیمت پراین آر سی اور قانون ترمیم شہریت کو نافذ ہونے نہیں دیں گے بلکہ وہ اس قانون کو پوری طرح سے مسترد کرتے ہیں ۔ طلبہ نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے ان حالات کو قابو میں لانے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں اور ان قوانین سے دستبرداری اختیار نہیں کی جاتی ہے تو طلبہ ملک بھر میں تحریک عدم تعاون شروع کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے اور سیاسی جماعتوں پر بھی تحریک عدم تعاون میں شامل ہونے کیلئے دباؤ ڈالا جائے گا۔