ایک ہی طبقہ کے افرادکی گرفتاری پرسوال،حالت قابو میں
نئی دہلی :شمال مغربی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں پتھراؤ کے بعد پھوٹ پڑے تشدد کے سلسلے میں پولیس نے 22 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ حکام نے بتایاہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں ایک 21 سالہ نوجوان بھی شامل ہے، جس نے مبینہ طور پر فائرنگ کی جس سے ایک پولیس سب انسپکٹر زخمی ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ملزم محمد اسلم سے ایک پستول بھی برآمد ہوا ہے جس سے اس نے ہفتے کی شام مبینہ طور پر فائرنگ کی تھی۔ملزم جہانگیرپوری میں واقع سی آر پارک کی کچی آبادی کا رہائشی ہے۔حکام نے بتایا کہ ہفتے کی شام دونوں برادریوں کے درمیان پتھراؤ ہوا اور کچھ گاڑیوں کونذرآتش کر دیا گیا۔ تشدد میں آٹھ پولیس اہلکار اور ایک شہری زخمی ہوئے۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس (نارتھ ویسٹ) اوشا رنگنانی نے کہا کہ ہفتہ کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 307 (قتل کی کوشش)، 120 بی (مجرمانہ سازش)، 147 (فساد) اور متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔آرمز ایکٹ کی کارروائی کی گئی۔رنگنانی نے بتایا کہ اسلم ایک اور کیس میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔ اس کے خلاف 2020 میں جہانگیر تھانے میں تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے بتایا کہ سب انسپکٹر کو گولی لگی ہے اوران کی حالت مستحکم ہے۔انہوں نے کہا کہ اتوار کی صبح جہانگیر پوری میں پولیس کی بڑی تعداد موقع پر موجود تھی اور صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے ریپڈ ایکشن فورس کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔رنگنانی کے مطابق اس وقت علاقے میں حالات معمول پر ہیں۔ایک اور پولیس افسرنے کہاہے کہ افراتفری پھیلانے میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے ڈرون اور چہرے کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر (چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی) کی مددلی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ جائے وقوعہ اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں اور موبائل فونز میں ریکارڈ شدہ فوٹیج کی چھان بین کی جارہی ہے۔کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے، قومی راجدھانی کے باقی تمام 14 پولیس اسٹیشنس میں حفاظتی انتظامات کو بڑھا دیا گیا ہے ۔جہانگیر پوری تشدد کیس میں اب تک 22 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن کا تعلق ایک ہی کمیونٹی سے ہے۔ اسی کمیونٹی کے ملزمان کی گرفتاری کے بعد پولیس کی اس کارروائی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس سلسلے میں پوچھے جانے پر دہلی پولیس کے اسپیشل سی پی نے جواب دیا۔دہلی پولیس کے اسپیشل سی پی دیپندر پاٹھک نے کہا ہے کہ جلوس کے دوران تلواریں اور بندوقیں لہرانے کی کچھ فوٹیج ملی ہیں، جس پر تحقیقات کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
جہانگیر پوری میں مسجد کے باہر نعرہ بازی کے بعد ہنگامہ آرائی
نئی دہلی کے جہانگیر پوری علاقہ میں کل شام سے حالات کشیدہ ضرور ہیں لیکن قابو میں ہیں اور کسی بھی ناخشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر دونوں فرقے لمبے وقت سے امن و امان کے ساتھ رہتے چلے آ رہے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ یہاں ایسا ماحول پیدا ہوا ہے۔ ایک شخص نے اپنے غصہ کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ ’مسجد کے دروازہ پر آپ ابھی بھی بھگوا جھنڈے اور پتھر دیکھ سکتے ہیں جبکہ قریب میں مندر واقع ہے جہاں پر کچھ بھی نہیں ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہیکہ ہنگامہ کس نے کیا۔‘‘ مقامی لڑکے نے بتا یا کہ مسجد کے باہر کچھ لوگوں نے نعرے بازی شروع کر دی، جس پر مسجد سے آئے ایک شخص نے انہیں ایسا کرنے کے لئے منع کیا۔ ایسا کہنے پر نعرہ لگانے والے لوگوں نے اس کو مارنا شروع کر دیا، جس کے بعد دونوں فرقوں میں پتھر بازی شروع ہو گئی۔‘‘ وہاں پر رہنے والے ایک شخص نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ ہنومان جینتی پر شوبھا یاترا نکالی جا رہی تھی، جس میں شریک لوگوں نے مسجد کے باہر نعرے بازی کی، جس کے بعد ہنگامہ ہوا۔
یہاں کے سابق رکن اسمبلی دیویندر سنگھ یادو نے لوگوں سے پر امن رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے کی پورے ملک میں ایک ہی طرح کی حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول اس قدر خراب ہو گیا ہے کہ انصاف کی بات کرنے والوں کو بھی ایک خاص طبقہ سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔کپل مشرا جو کیجریوال کی حکومت میں وزیر تھے اور بعد میں بی جے پی میں شامل ہو گئے، انہوں نے بھی علاقہ میں غیر قانونی طور پر رہ رہے بنگلہ دیشی اور روہنگیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطابہ کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ فساد مسجد کے باہر نعرے لگانے کی وجہ سے ہوا۔ پولیس سارے معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔پورا جہانگیر پوری علاقہ چھاونی میں بدل گیا ہے اور پولیس ہر پہلو پر نظر رکھ رہی ہے۔ کئی علاقوں میں باہر کے لوگوں کو جانے نہیں دیا جا رہا ہے، جبکہ وہاں رہ رہے لوگوں کے رشتہ دار کافی پریشان ہیں۔ رمضان کی وجہ سے ایک فرقہ کے لوگوں میں کافی بے چینی ہے۔ دہلی اورمرکزی حکومت کو اس معاملہ میں مل کر کوئی حکمت عملی تیار کرنی چاہئے کہ دہلی کو اس نفرت کی آگ سے کیسے بچایا جا سکتا۔