دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین الیکشن میں اے بی وی پی کی کامیابی

   

نئی دہلی ۔ 19 ستمبر (ایجنسیز) دہلی یونیورسٹی طلبا یونین کے انتخابات 2025 میں آر ایس ایس سے وابستہ طلبا تنظیم اے بی وی پی نے صدر عہدہ سمیت تین اہم مرکزی عہدوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ این ایس یو آئی کو صرف نائب صدر کا عہدہ حاصل ہوا۔صدر کے عہدہ پر آرین مان، سکریٹری کیلئے کنال چودھری اور جوائنٹ سکریٹری کیلئے دیپیکا جھا نے فتح حاصل کی۔ نائب صدر عہدہ این ایس یو آئی کے راہل جھانسل کے حصے میں آیا۔ آرین کو 28,841 جبکہ گووند تنور کو 20,547 ووٹ ملے۔ کنال نے 23,779 اور دیپیکا نے 21,825 ووٹ حاصل کیے۔ نندیتا چودھری کو 12,645 ووٹ، راہل جھانسل کو 29,339 ووٹ، کبیر کو 16,177 ووٹ اور جوائنٹ سکریٹری کے لیے لوکْش بھڈانا کو 17,380 ووٹ ملے۔
دیگر طلبا تنظیموں ایس ایف آئی اور آئیسا کی کارکردگی کمزور رہی، جنہوں نے کسی بھی مرکزی عہدے پر فتح حاصل نہ کیانتخابات کے دوران تنازعات اور عدالت کی مداخلتانتخابات سے قبل این ایس یو آئی اور بائیں بازو کی جماعتوں نے انتظامیہ پر اے بی وی پی کے حق میں جھکاؤ کے الزامات عائد کیے۔ ان میں انتخابی مہم کی اجازت میں امتیاز، پولیس کی بھاری موجودگی، اور ووٹنگ کے عمل میں ممکنہ بدعنوانی شامل تھیں۔انتخابات کے دوران ’ای وی ایم انک رو‘ کے معاملے نے تنازع کو بڑھا دیا، جس میں آرین مان مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ انک کے ساتھ نظر آئے۔ این ایس یو آئی نے اسے “ووٹ چوری’’ قرار دیا، جبکہ اے بی وی پی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔دہلی ہائی کورٹ نے بھی انتخابات کے دوران “منی اور مسل پاور’’ کے استعمال کے خلاف سختی سے خبردار کیا اور انتباہ دیا کہ اگر غیرقانونیت جاری رہی تو انتخابات کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہیفتح کے بعد خوشی اور عزمصدر بننے کے بعد آرین مان نے طلبا سے کہا کہ وہ عدالت کے احکامات کی پاسداری کریں گے اور کوئی جشن یا ریلی نہیں نکالی جائے گی۔ انہوں نے کہا:سکریٹری کنال چودھری اور جوائنٹ سکریٹری دیپیکا جھا نے بھی اپنے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ طلبا کی بھلائی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری نے کہا کہ انتخاب میں ناہموار حالات کے باوجود این ایس یو آئی نے بہتر جدوجہد کی۔ انہوں نے لکھا:گزشتہ سال این ایس یو آئی نے صدر اور جوائنٹ سکریٹری کے عہدوں پر کامیابی حاصل کی تھی، لیکن اس سال اے بی وی پی نے اپنی بالادستی ثابت کر دی۔ یہ نتائج دہلی یونیورسٹی کی طلبا سیاست میں اے بی وی پی کی طاقت کا مظہر ہیں، حالانکہ انتخابات کے دوران پیدا ہونے والے تنازعات اور الزامات ابھی بھی بحث کا موضوع ہیں۔