ملک کی ترقی مہا وکاس اگھاڑی سے ہی ممکن‘ انتخابی ریالی سے کانگریس لیڈر ایم شرشٹوار کا خطاب
دیگلور ۔ 17؍نومبر (قاضی انصار علی ارمان کی رپورٹ)۔ حلقہ اسمبلی دیگلور اور لوک سبھا ناندیڑ کے ضمنی انتخابات میں مہاویکاس اگھاڑی کانگریس پارٹی کے امیدواران نیورتی کونڈیبا کامبڑے اور پروفیسر رویندر وسنت راؤ چوہان کی انتخابی ریالی اور پدیاترامیں دیہاتیوں اور شہریان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انہوں نے گھر گھر جا کر ان دونوں امیدواروں کی کامیابی کے لیے تمام رائے دہندگان سے پرخلوص اپیل کی ہے۔ اس موقع پر کانگریس پارٹی کے صدر اور سابق صدر بلدیہ موگلاجی شرشٹوار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس امیدوار جتیش انتاپورکر کو اس سے قبل ہم نے غریب امیدوار کے طور پر قبول کرتے ہوئے تن من دھن کے ساتھ بھرپور ووٹوں کی کثرت سے منتخب کیا تھا، جو اس نے کانگریس پارٹی ہی نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچاتے ہوئے زعفرانی پارٹی بی جے پی میں شرکت کرکے وہ اقلیتوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ اس کا ہمیں جواب دینا ہے، جس کے پاس گھر نہیں تھا، کرائے کے گھر میں رہتے تھے۔ آج ممبئی میں ان کی 50 کروڑ کی جائیداد قائم ہوگئی ہے۔ اس طرح سے انہوں نے عوام کی خدمت کرنے کے بجائے روپیہ بٹورنے میں یہ مدت گزار دی۔ انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ مہاویکاس اگھاڑی کانگریس کے دونوں امیدواروں کو ووٹوں کی اکثریت سے منتخب کریں۔ اس موقع پر حیدرآباد تلنگانہ سے آئے ہوئے کانگریس پارٹی کے فلور لیڈرس و پارٹی مبصرین سری ہری کولی جی( ایم ایل اے) اور کئیلاش راؤ نے اس ریالی کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناندیڑ، دیگلور، بلولی اور کونڈلواڑی اس حلقے کی ہما جہتی ترقی کے لیے اور راہول گاندھی کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے پارٹی نے پروفیسر رویندرا پٹیل چوہان اور نیورتی کامبڑے پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کی ہے اور ان سے حلف لیا گیا ہے کہ یہ کبھی بھی پارٹی کے ساتھ غداری نہیں کریں گے اس عہد کے ساتھ ہی ہم نے انہیں میدان میں اتارا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ دونوں امیدوار لوک سبھا حلقہ ناندیڑ سے اور دیگلور اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوکر آپ کی خدمت کریں گے۔ سارا مہاراشٹرا ایک طرف اور ناندیڑ، دیگلور ایک طرف ہے۔ بی جے پی اس ملک میں انگریزوں کی طرح حکومت کرنا چاہتی ہے۔ ’’آپس میں لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ اس ملک کے ہندو بھائی اور مسلمان بھائیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہی ہے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جبکہ جی ایس ٹی ٹیکسیس لگا کر مہنگائی بڑھا دی گئی ہے۔ آج پیٹرول، گیاس، ایندھن کے دام آسمان کو چھو رہے ہیں اور دیگر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسان برادری بھی خوش نہیں ہیں آج اناج کی خریداری کا ایک بھاؤ ہے اور دکانوں میں اناج الگ بھاؤ سے بکتا ہے۔ یہ عوام کا استحصال کب تک چلتا رہے گا، اس لیے اس ملک کو مہاویکاس اگھاڑی ہی ترقی دے سکتی ہے۔