ذرائع ابلاغ کی خبروں پر عوامی تحریک میں شدت ، پالیسیوں میں تبدیلیاں

   

گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی کارکردگی پر ردعمل کے بعد شفافیت پر توجہ
حیدرآباد۔17۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ذرائع ابلاغ کے ذریعہ خبروں کے انکشاف پر اگر ردعمل شدت اختیار کرتا ہے اور عوامی تحریک شروع ہوتی ہے تو ایسی صور ت میں طاقتور اداروں کو بھی اپنی پالیسیوں میں تبدیلیا ں لانی پڑتی ہیں جس کی مثال الیکشن کمیشن آف انڈیا ہے۔گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی کارکردگی سے متعلق 23 ستمبر کو ہونے والے انکشاف کے بعد جو عوامی رد عمل ظاہر کیا جار ہاہے اس کے نتیجہ میں گذشتہ 3ہفتوں کے دوران الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اپنے پالیسی ساز فیصلوں میں بڑی تبدیلیاں لائی ہیں جن میں سب سے اہم فارم6 پر عائد کئے گئے شرائط کو برخواست کرنے کا فیصلہ کیاگیا اور SIR کی تفصیلات فراہم کرنے کی شرط کو ختم کردیا گیا۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج کے دوران الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اجلاس منعقد کرتے ہوئے کئی اہم فیصلے کئے جن میں عہدیداروں کے بیرونی دوروں کے علاوہ ان کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ 31ڈسمبر کو وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں مستقبل میں منعقد ہونے والے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اجلاس کا ایجنڈہ اجلاس سے قبل اور اجلاس کے فیصلوں کے متعلق تیار کئے جانے والے ’منٹس‘ کو جاری کرنے کا فیصلہ کیاگیا تاکہ کمیشن کی کارکردگی کو شفاف بنایا جاسکے۔ان 3ہفتوں کے دوران کئے گئے اہم فیصلوں میں ECInetکی قانونی حیثیت اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں اقدامات اور سفارشات وصول کرنے کے لئے علحدہ کمیٹی کی تشکیل کے اقدامات بھی کئے گئے اور ملک بھر میں جہاں S.I.Rکے دوران رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کیاگیا تھا ان کی دوبارہ شمولیت کے لئے خصوصی مہم چلانے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے فارم6میں کی گئی تبدیلیوں کو سپریم کورٹ کی منظوری حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے برقرار رکھا تھا لیکن سپریم کورٹ میں احتجاجی مظاہروں کے دوران منعقد ہونے والی سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے منظوری دیئے جانے سے انکار کے ساتھ ہی فارم6 میں کی گئی تبدیلیوں کو واپس لے لیا گیا ۔عوامی احتجاج اور مسلسل جدوجہد کے نتیجہ میں الیکشن کمیشن آف انڈیا پر عائد کئے جانے والے الزامات کو دور کرنے کے لئے کمیشن نے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شفاف طریقہ سے اقدامات کو یقینی بنانے کے لئے متعدد اہم فیصلے کئے ہیں جو کہ خبروں پر عوامی ردعمل کے سبب ممکن ہوسکا ہے کیونکہ جمہوریت میں سیاستدانوں اور اداروں کو عوام کا ہی خوف ہوتا ہے۔3