ذہنی پراگندگی کی انتہاء

   

Ferty9 Clinic

گذشتہ چند برسوںمیںہندوستان کے ماحول کو انتہاء درجہ تک پراگندہ کردیا گیا ہے ۔ جو ملک کبھی محبت و اخوت اور بھائی چارہ کی مثال کہلاتا تھا اور ساری دنیا میںہندوستان کوستائشی نظروں سے دیکھا جاتا تھا ۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والوںاور مختلف بولیاں بولنے والوںکے مابین جو قربت و رواداری ہوا کرتی تھی وہ ساری دنیا کیلئے ایک مثال تھی ۔ ہندوستان ساری دنیا میںکثرت میںوحدت کا ایک عملی نمونہ تھا ۔ یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ حد درجہ خلوص کے ساتھ زندگی بسر کیا کرتے تھے تاہم گذشتہ چند برسوں کے دوران سارے ملک میںنفرت کے ماحول کو فروغ دیدیا گیا ہے ۔ یہاںعوام کے ذہنوںکو اس حد تک پراگندہ کردیا گیا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے سائے سے بھی نفرت برتنے لگے ہیں۔ معمولی سی باتوںکو مذہبی رنگ دیتے ہوئے ان کا سیاسی استحصال کرنے کی جو روش شروع ہوئی تھی وہ انتہائی خطرناک حدوں کو چھونے لگی ہے۔ کبھی کسی اقلیت کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی کسی اقلیت کو ۔ سب سے زیادہ نشانہ اس ملک میںمسلمان بنائے جا رہے ہیں۔ کبھی ان کی غذائی عادات کی وجہ سے تو کبھی ان کے رہن سہن کی وجہ سے ۔ حد تو یہ ہے کہ ملک کے وزیراعظم خود ایک مخصوص فرقہ کا حوالہ ان کے لباس سے دیتے ہیں۔ انتخابات میں کامیابی کیلئے عوامی مسائل یا ملک کو درپیش چیلنجس کا تذکرہ نہیں کیا جاتا بلکہ عید۔ دیوالی اورشمشان ۔ قبرستان کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ کسی کے گوشت کھانے پر اعتراض تو کسی کے داڑھی رکھنے اور ٹوپی پہننے پر اختلاف کیا جاتا ہے ۔ اب تو خواتین کو تک نشانہ بنانے سے گریز نہیںکیا جا رہا ہے ۔ مسلم خواتین اور لڑکیوں کی جانب سے حجاب کے استعمال کو ایک بڑے مسئلہ کے طور پر ابھار کر پیش کیا جارہا ہے تاکہ ملک بھر میںنفرت کو مزید ہوا دی جاسکے ۔ کرناٹک کے ایک شہر میں ایک کالج میںطالبات کے حجاب استعمال کرنے پر مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اور اچانک دیکھتے ہی دیکھتے سارے ملک میں اسی کے تذکرے شروع کردئے جاتے ہیں۔ اسی کو ایک انتہائی اہم مسئلہ کے طور پر ابھارتے ہوئے دیگر اہم اور ترجیح کے طالب مسائل سے توجہ ہٹائی جاتی ہے ۔
کبھی دستور کا غلط حوالہ دیا جاتا ہے تو کبھی قانون کی غلط تاویل پیش کرتے ہوئے تو کبھی ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے ماحول کو خراب کیا جارہا ہے ۔ سارا کچھ سیاسی فائدہ کیلئے ہورہا ہے اور اس کوشش میں ملک کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے ۔ اب تو ملک کے کچھ مقامات پر گاووںمیںمسلمانوںکامعاشی اورسماجی بائیکاٹ تک کیا جا رہا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کوئی ڈھکے چھپے انداز میںنہیںہو رہا ہے بلکہ دھڑلے سے اور کھلے عام یہ غنڈہ گردی چل رہی ہے لیکن حکومتیںاور نفاذ قانون کی ایجنسیاں ڈوغلے طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے ایسی کوششوں کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ سماج میں یکسانیت اور قانون سب کیلئے مساوی ہونے کا دعوی کرنے والے قانون سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ دوہرے معیارات اختیار کرتے ہوئے نفرت کو ختم کرنے کی بجائے اس کو بڑھاوا دینے کاذریعہ بن رہے ہیں۔ کرناٹک میں حجاب کے مسئلہ کو جس طرح سے طول دیا گیا ہے اور سارا گودی میڈیا اور تلوے چاٹنے والے اینکرس جس طرح اس پر مباحث کر رہے ہیں اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اتفاق سے پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں ہے ۔ ایک منظم سازش کے تحت منصوبہ بند انداز میں اس مسئلہ کو ہوا دی گئی ہے تاکہ اس کا سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے ۔ انتخابات میںناکامی کے خوف سے ملک کے ماحول سے کھلواڑ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ غنڈہ عناصر کا استعمال کرتے ہوئے حالات کو بگاڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔
آج سارے ملک میں ایک بے چینی کا اور افرا تفری کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے ۔ ایک طرح کا اضطراب پیدا کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں عوام میں بھی اطمینان نہیں رہ گیا ہے ۔ سارا کچھ سیاسی مفادات اور سیاسی فائدہ کیلئے اور اقتدار کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ جو عناصر ایسی مذموم حرکتیں کرتے ہوئے ملک کاماحول پراگندہ کر رہے ہیں ان کوکھلی چھوٹ دی جا رہی ہے ۔ ان کی بالواسطہ حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ۔ ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے ۔ ملک کے فکرمند عوام کو اپنی بصیرت اور شعور کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے اور ملک کے ماحول کو بگاڑنے کی کوششیںکرنے والی طاقتوںکو ناکام بنانا چاہئے ۔