حیدرآباد۔26 جولائی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے نواحی مغربی حصہ کو رئیل اسٹیٹ تاجرین کی اولین پسند کہا جاتا رہا ہے اور حالیہ عرصہ تک بھی لنگم پلی‘ کوکاپیٹ‘ گچی باؤلی وغیرہ علاقہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اراضیات میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے پسندیدہ علاقوں میں شمار کئے جاتے تھے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے اب سرمایہ کاروں کی توجہ مغربی حصہ سے ہٹاکر مشرقی حصہ کی سمت مبذول کئے جانے کے بعد گھٹکیسر‘ اپل‘ ایل بی نگر اور آدی باٹلہ کے علاقوں میں رئیل اسٹیٹ تاجرین اور سرمایہ کاروں کی توجہ مبذول ہونے لگی ہے اور ان علاقوں میں اراضیات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ مادھاپور‘ کوکا پیٹ‘ نارسنگی‘ گچی باؤلی‘ میاں پور‘ کوکٹ پلی ‘ حفیظ پیٹ کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں میں رئیل اسٹیٹ اور سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں میں زبردست اضافہ ریکارڈکیا جانے لگا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ حیدرآباد میٹرو ریل کی اپل تک رسائی اور شہر کے اس حصہ سے دوسرے حصہ تک میٹرو کے علاوہ حکومت کی جانب سے ان علاقوں میں انجام دیئے جانے والے ترقیاتی کاموں میں اضافہ کے سبب ان علاقوں کو ترقی حاصل ہونے لگی ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مغربی حصہ اور مشرقی حصہ کے ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ جنوبی حصہ کی بھی ترقی کے سلسلہ میں اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن پرانے شہر سے جڑنے والے جنوبی حصہ کی ترقی کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیںکئے جا رہے ہیں جبکہ متعدد مرتبہ ایوان اسمبلی میں بھی اس سلسلہ میں نمائندگی کی جاچکی ہے جس کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوپائے ہیں۔آدی باٹلہ ‘ اپل کے علاوہ گھٹکیسر کے علاقوں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ کے علاوہ ان علاقوں میں تعمیری سرگرمیوں میں بھی زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور گنجان آبادیوں سے دوری اختیار کرنے والے شہریوں نے ان علاقوں کا رہائش کے لئے بھی انتخاب کرنا شروع کردیا ہے اور نئی کمپنیوں کے قیام کے سبب رہائشی آبادیوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔م