ہر گوشے کی اپیلیں نظر انداز ۔ ووٹرس کو نکالنے سیاسی کارکنوں کی کوششیں بھی ناکام
حیدرآباد۔ جی ایچ ایم سی انتخابات میں رائے دہی کا تناسب اور فیصد بڑھانے کیلئے کئی گوشوں کی جانب سے کوششیں کی گئیں تھیں جو تمام کی تمام بے اثر ثابت ہوئیں اور اس بار کی رائے دہی گذشتہ کی بہ نسبت مزید کم ہی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ شائد یہ پہلی مرتبہ تھا جب بیشتر پولنگ بوتھس پر کوئی قطار ہی نہیں دیکھی گئی ۔ اہم شخصیتوں ‘ سیاستدانوں اور فلمی شخصیتوں کی مدد لیتے ہوئے رائے دہی میں حصہ لینے کی عوام کو ترغیب دی گئی تھی لیکن یہ تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور عوام نے پہلے سے زیادہ اس بار رائے دہی سے بیزارگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک طرح سے سیاسی جماعتوں کو مسترد کردیا ہے ۔ پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر کے کئی علاقو ں میں رائے دہندو ںمیں جوش و خروش کی کمی دیکھی گئی جس کے سبب مراکز رائے دہی ویران پڑے تھے ۔ صبح کی اولین ساعتوں سے ہی مراکز رائے دہی پر کوئی قطار نہیں تھی حالانکہ مختلف گوشوں سے رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کیلئے متعدد اقدامات کے ساتھ شعور بیداری مہم چلانے کی بھر پور کوشش کی گئی لیکن شہر میں رائے دہی کی رفتار انتہائی سست رہی ۔ پرانے شہر کے بیشتر بلدی حلقہ جات میں ووٹرس کی کوئی قطاریں نظر نہیں آئیں بلکہ سیاسی کارکنوں کو رائے دہندوں کو گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالنے تلقین کرتے دیکھا گیا ۔ پرانے شہر کے بعض حساس مراکز رائے دہی پر جہاں سخت مقابلہ رہا ان مراکز رائے دہی پر پولیس کے پہرے کے علاوہ دور سے گاڑیوں کو روکنے کے سبب رائے دہندوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ بیالٹ پیپر پر انتخابات کے سبب ایسا محسوس کیا جا رہا تھا کہ رائے دہندوں کو قطار میں انتظار کرنے کی ضرورت محسوس ہوگی لیکن شہر کے کسی بھی اقلیتی علاقہ میں ووٹرس کو قطار میں نہیں دیکھا گیا جبکہ بعض اکثریتی علاقو ںمیں قطاریں دیکھی گئیں۔ عوام کو سیاسی قائدین اور امیدواروں سے ناراض دیکھا گیا اور شہر کے کئی مقامات پر گھروںسے رائے دہندوں کو نکالنے پہنچے کارکنوں کو برہمی کا سامنا کرنا پڑا ۔ مراکز رائے دہی سنسان ہونے کے سبب شہر میں کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر بااثر شخصیتوں کی جانب سے پولنگ فیصد میں اضافہ کی اپیل کرتے دیکھا گیا لیکن اس کے باوجود بھی شہریوں پر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا گیا۔