نئی دہلی : راجستھان اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی نے ہائیکورٹ کے 21 جولائی کے عبوری فیصلے کو واپس لے لیا۔راجستھان ہائیکورٹ نے گزشتہ 21 جون کو عبوری حکم سناتے ہوئے اسمبلی اسپیکر کو سچن پائلٹ اور ان کے خیمے کے 18 ارکان اسمبلی کیخلاف کارروائی کرنے سے 24 جولائی تک کیلئے روک لگا دی تھی،جسے اسپیکر نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔اسپیکر کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپِل سبل نے جسٹس ارون کمار مشرا کی صدارت والی بینچ کے سامنے دلیل دی کہ ہائی کورٹ کے گزشتہ جمعہ کے حکم کے بعد پہلے حکم کے خلاف عرضی جاری رکھنے کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا،اس لئے انہیں اسے واپس کی اجازت دی جائے ۔سبل نے کہا کہ گزشتہ 24 جولائی کو 32 صفحات کا حکم سنایا گیا تھا،جس میں آئین کی دسویں فہرست کی تفصیل سمیت کئی سوال کھڑے کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں قانون متبادل پر غور کرنا ہے کہ آگے کیا کرنا ہے ۔عدالت نے انہیں عرضی واپس لینے کی اجازت دے دی۔عدالت نے اسمبلی اسپیکر کو نہ صرف عرضی واپس لینے کی اجازت دی،بلکہ نئی خصوصی اجازت عرضی (ایس ایل پی) دائر کرنے اور سبھی متبادل کھلے رکھنے کی آزادی دی۔اس دوران سبل نے ہائیکورٹ کے 24 جولائی کے حکم کے خلاف اپیل کے اشارے دیئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ 23 جولائی کو جسٹس مشرا،جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس کرشن موراری کی بنچ نے اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی کی جانب سے سینئر وکیل کپِل سبل اور پائلٹ خیمے کی جانب سے پیش سینئر وکیل ہریش سالوے اور مکل روہتگی کی دلیلیں سننے کے بعد کہاتھا کہ وہ اس معاملے میں پر کو تفصیلی سماعت کرے گی۔اس دوران اس نے ہائیکورٹ کے منگل کے حکم پر روک لگانے سے انکار کردیا تھا۔سپریم کورٹ نے کہاتھا کہ وہ اس سلسلے میں سماعت کرے گا کہ کیا ہائیکورٹ ایوان کے اسپیکر کے نوٹس کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کر سکتا ہے یا نہیں؟ بنچ اسپیکر کے دائرہ اختیار بنام عدالت کے دائرہ اختیار جیسے اہم سوال پر غور کرے گی۔ حالانکہ عدالت نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ ہائیکورٹ کا 24 جولائی کا کوئی بھی فیصلہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے آخری فیصلے پر منحصر کرے گا۔اسمبلی اسپیکر نے راجستھان ہائیکورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں اس نے جمعہ تک سچن پائلٹ اور ان کے خیمے کے 18 ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی پر روک لگا دی تھی۔عرضی میں کہاگیا تھا کہ ہائیکورٹ اسمبلی اسپیکر کو سچن گروپ پر کارروائی کرنے سے نہیں روک سکتا۔عدالت کا گزشتہ 21 جولائی کا حکم عدلیہ اور مقننہ میں ٹکراؤ پیدا کرتا ہے ۔