راجوری میں پر اسرار اموات کا سلسلہ جاری، ایک اور بچی دم توڑ گئی ، تعداد 17

   

جموں: راجوری ضلع کے بڈھال گاوں میں پر اسرار اموات کا سلسلہ جاری ہے ۔ اتوار کی شام ایک اور کمسن بچی ہسپتال میں دم توڑ گئی اور اب تک مہلوکین کی تعداد 17تک جا پہنچی ہے ۔مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی ٹیم نے راجوری کا دورہ کیا ۔اطلاعات کے مطابق راجوری کے بڈھال گاوں میں اس وقت سنسنی کا ماحول پھیل گیا جب زیر علاج کمسن بچی دم توڑ گئی۔نامہ نگار نے بتایا کہ 15سالہ یاسمین دختر اسلم جموں ہسپتال میں دم توڑ بیٹھی اور جوں ہی یہ خبر بڈھال گاوں میں پہنچی تو وہ لوگ گھروں میں سہم کررہ گئے ۔انہوں نے بتایا کہ پرا سرار اموات کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ 17افراد کیسے اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔جموں وکشمیر کی انتظامیہ اور مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی تاہم ابھی تک ڈاکٹر کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں ۔مقامی عوام کا کہنا ہے کہ اگر یہ قدرتی اموات ہے تو اس میں کوئی کچھ نہیں کرسکتا لیکن اگر کسی نے شرارت کی ہے تو اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ان کا کہنا تھا کہ صرف تین کنبوں سے وابستہ افراد ہی پر اسرار طورپر جاں بحق ہوئے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ 45دنوں سے بڈھال گاوں میں 17افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم موجودہ سائنسی دور میں موت کی وجوہات کا پتہ لگانے میں تال حال ماہرین اور ڈاکٹر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری کے پرنسپل نے کہاکہ اموات ‘نیروٹاکسن ’کی وجہ سے ہو رہی ہے تاہم ڈاکٹر نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی ۔جموں وکشمیر کے چیف منسٹر عمر عبداللہ نے پولیس اور طبی ماہرین کو ہدایت دی کہ پرا سرار اموات کی وجوہات کا جلد پتہ لگایا جائے ۔