نئے کشمیر کے وعدے کا کیا ہوا، مرکزی حکومت سے کانگریس کا سوال
جموں: جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر وقار رسول وانی نے راجوری حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ عسکریت پسندی کی لہر اب جموں پہنچ گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی سرکار جموں وکشمیر میں حالات بہتر ہونے کے دعوئے کر رہی ہیں لیکن حقائق اس کے برعکس ہے ۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے جموں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ راجوری میں عام شہریوں کی ہلاکت ناقابل برداشت ہے اوراس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ اورمرکزی سرکار کے نئے کشمیر کے وعدے کا کیا ہوا۔ اُن کے مطابق عسکریت پسندی اب جموں پہنچ گئی ہے اور سرکار صرف جھوٹے دعوئے کر رہی ہیں۔پی سی سی چیف نے بتایا کہ راجوری میں شہری ہلاکتیں دراصل انٹیلی جنس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ملی ٹینٹوں نے پہلے اتوار کی شام عام شہریوں پر بندوقوں کے دہانے کھولے اور پیر کی صبح اُسی مقام پر آئی ای ڈی دھماکہ ہوا جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے ۔وقار رسول وانی نے کہاکہ شہریوں پر فائرنگ کے بعد حملہ آور بچ نکلنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں ۔انہوں نے مرکزی سرکار کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ اجلاس کے دوران بھاجپا کے لیڈران کشمیر میں حالات بہتر ہونے کے دعوئے کر رہے ہیں لیکن حقائق اس کے برعکس ہے ۔اُن کے مطابق جموں وکشمیر میں روز افزاں انسانی جانیں تلف ہو رہی ہیں ، کشمیری پنڈت وادی سے بھاگ کر جموں منتقل ہورہے ہیں۔وقار رسول وانی نے بتایا کہ کانگریس وفد نے راجوری جانے کی کوشش کی لیکن سیکورٹی فورسز نے اُنہیں وہاں جانے نہیں دیا لیکن بھاجپا کے لیڈران کو محفوظ راہداری فراہم کی جارہی ہیں۔