گوشہ محل حلقہ عوام میں موضوع بحث،مجلس و بی آر ایس کا مشترکہ امیدوار کیوں نہیں، راجہ سنگھ دونوں کی ضرورت تو نہیں
سیاسی حلقوں اور سوشیل میڈیا میں اندیشوں کا اظہار
حیدرآباد۔/31 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) لوک سبھا حلقہ حیدرآباد کے تحت آنے والے حلقہ اسمبلی گوشہ محل ان دنوں سیاسی حلقوں اور سوشیل میڈیا میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ حیدرآباد لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرنے والی مجلسی قیادت 6 اسمبلی حلقہ جات میں اپنے امیدوار کھڑے کرتی ہے لیکن لوک سبھا حلقہ کے ساتویں اسمبلی حلقہ کے بارے میں بالواسطہ طور پر خاموشی پر مسلمانوں میں مختلف اندیشوں اور امکانات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ پرانے شہر میں مجلس کی مخالفت کرنے والوں کو نشانہ بنانے اور انہیں مخالفت سے باز رکھنے کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کئے جاتے ہیں اور شہر کے عوام اچھی طرح واقف ہیں کہ مجلسی قیادت اپنے مخالف مسلم افراد کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتی ہے لیکن گوشہ محل اسمبلی حلقہ میں گستاخ رسول کے خلاف ایمانی حرارت کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔ بی جے پی نے راجہ سنگھ کی معطلی ختم کرتے ہوئے تیسری مرتبہ گوشہ محل سے پارٹی امیدوار بنایا ہے اور راجہ سنگھ سے مقابلہ کیلئے سوائے کانگریس کے بی آر ایس اور مجلس نے ابھی تک اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا۔ کانگریس نے مہیلا کانگریس کی ریاستی صدر سنیتا راؤ کو راجہ سنگھ سے مقابلہ کی ذمہ داری دی ہے۔ اب جبکہ الیکشن نوٹیفکیشن کی اجرائی کو محض دو دن باقی ہیں بی آر ایس اور مجلس نے ابھی تک اپنے امیدوار کا اعلان نہ کرتے ہوئے سیاسی حلقوں اور سوشیل میڈیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 2014 میں راجہ سنگھ نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور مسلسل دو مرتبہ گوشہ محل سے بی جے پی کے ٹکٹ پر منتخب ہوچکا ہے۔ بی جے پی نے الیکشن سے عین قبل معطلی ختم کرتے ہوئے راجہ سنگھ کو تیسری مرتبہ موقع دیا لیکن مسلمانوں سے ہمدردی اور دینی و ملی حمیت کا دعویٰ کرنے والے گوشہ محل سے مقابلہ کے بارے میں خاموش ہیں۔ سوشیل میڈیا پر عوام سوال کررہے ہیں کہ گستاخ رسول کے خلاف ایمانی حرارت کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا جاتا، کہیں ایسا تو نہیں کہ بی آر ایس اور مجلس دونوں راجہ سنگھ کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہیں۔ اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم کے خلاف مجلس نے دارالسلام میں احتجاجی جلسہ عام منعقد کیا لیکن جس اسمبلی حلقہ میں دارالسلام موجود ہے وہاں کے رکن اسمبلی جو شاتم رسول ہے اس کے خلاف مقابلہ کا خیال تک نہیں آتا۔ ایمانی حرارت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ دیگر تمام اسمبلی حلقہ جات سے زیادہ گوشہ محل پر توجہ دی جائے اور پوری طاقت جھونک کر گستاخ رسول کا منہ کالا کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اسمبلی میں دکھائی نہ دے۔ دیگر اسمبلی حلقہ جات کی کامیابی کے مقابلہ گستاخ رسول کو شکست دینے میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی حاصل ہوسکتی ہے۔ راجہ سنگھ نہ صرف تلنگانہ بلکہ ہندوستان بھر میں ہندوتوا کی علامت کے طور پر اُبھررہا ہے اور بی آر ایس اور مجلس کی خاموشی عوام میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف وقفہ وقفہ سے زہر افشانی کرنے کے علاوہ راجہ سنگھ نے مجلسی قیادت کے خاندان پر بھی رکیک حملے کئے باوجود اس کے قیادت کو جوش نہیں آیا جبکہ سیاسی مخالفت والے مسلمانوں پر پولیس سے مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ملک کے باہر موجود گستاخان رسولؐ کے خلاف احتجاج سے زیادہ ضروری یا حیدرآباد میں راجہ سنگھ کو شکست دینا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی آر ایس اور مجلس کیا راجہ سنگھ کے خلاف مقابلہ سے خوفزدہ ہے یا پھر سیاسی مجبوری کے تحت اسے برقرار رکھا جارہا ہے تاکہ اس کی اشتعال انگیزی کے نام پر مسلمانوں کو مشتعل کرتے ہوئے اپنا ووٹ بینک مستحکم کرسکیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ سیکولر چیف منسٹر کے دعویدار کے سی آر اور مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے اسد اویسی دونوں ’ماموں بھانجے‘ مشترکہ حکمت عملی تیار کرتے ہوئے راجہ سنگھ کی شکست کو یقینی بنائیں تاکہ حیدرآباد سے دوبارہ کوئی گستاخ رسول سر اُبھار نہ سکے۔ ایسا نہیں ہے کہ گوشہ محل کے رائے دہندوں کی اکثریت فرقہ پرست ذہنیت رکھتی ہے حلقہ کے عوام کی اکثریت سیکولر ہے لیکن انہیں بی آر ایس اور مجلس کی سرپرستی اور تائید حاصل نہیں جس کے نتیجہ میں وہ گھبراکر راجہ سنگھ سے کھل کر مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں عنبرپیٹ سے بی آر ایس نے کشن ریڈی کو شکست دی تھی تو پھر گوشہ محل میں راجہ سنگھ کو شکست دینے میں آخر کیا چیز رکاوٹ بن رہی ہے۔ تلنگانہ کے مسلمانوں کے روبرو بی آر ایس اور مجلس کا امتحان ہے کہ وہ راجہ سنگھ کے خلاف کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔عوام کاکہنا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ دونوں پارٹیوں کو بی جے پی سے زیادہ راجہ سنگھ جیسی شخصیت کی ضرورت ہے تاکہ اپنے ووٹ بینک کی سیاست جاری رہے اور ایک راجہ سنگھ کی آڑھ میں 6 اسمبلی حلقہ جات میں کامیابی حاصل کی جاسکے۔ راجہ سنگھ اپنے بھڑکاؤ بھاشنوں کے ذریعہ کہیں ایجنٹ کے طور پر کام تو نہیں کررہا ہے تاکہ بیک وقت فریقین کا فائدہ ہو۔