راجیو یوا وکاسم اسکیم کیلئے اقلیتوں میں شعور بیداری کی ضرورت

   

اقلیتی امیدواروں کی درخواستوں کی رفتار انتہائی سست، 50 ہزار تا 4 لاکھ روپئے امداد کی سہولت
حیدرآباد 28 مارچ (سیاست نیوز) اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں کو راجیو یوا وکاسم اسکیم کے تحت 4 لاکھ روپئے تک امداد سے متعلق اسکیم سے استفادہ کیلئے اقلیتی طبقہ کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں کو کاروبار کے آغاز کیلئے 4 مختلف زمرہ جات کے تحت سبسیڈی پر مبنی قرض کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکیم کے تحت اقلیتوں کیلئے 840 کروڑ کی منظوری دی گئی اور مختلف اقلیتی طبقات کے امیدواروں کو آبادی کے اعتبار سے رقمی منظوری کے بعد مسلم اقلیت کیلئے 751 کروڑ کی گنجائش رہے گی۔ اندازہ کے مطابق اسکیم سے ریاست بھر میں 42 ہزار سے زائد اقلیتی نوجوان استفادہ کرپائیں گے۔ اسکیم کیلئے آن لائن درخواستوں کے ادخال کا آغاز ہوچکا ہے لیکن اقلیتی امیدواروں کی درخواستوں کے ادخال کی رفتار انتہائی سست ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذرائع کے مطابق تاحال ریاست بھر سے 12 ہزار درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ درخواستوں کے آن لائن ادخال کی آخری تاریخ 5 اپریل مقرر ہے، ایسے میں ریاست بھر میں اقلیتی امیدواروں کو مناسب رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اگر درخواستوں کے ادخال کی یہی رفتار رہی تو طے شدہ نشانہ کے مطابق بھی درخواستوں کا ادخال ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ جس قدر زائد درخواستیں داخل کی جائیں گی حکومت سے اُن کی منظوری کے اقدامات کئے جائیں گے۔ درخواستوں کے ادخال کیلئے حکومت نے شرائط میں نرمی کی ہے اور راشن کارڈ کے لزوم کو ختم کرکے انکم سرٹیفکٹ داخل کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ باوجود اِس کے حیدرآباد اور اضلاع سے درخواستوں کے ادخال کی رفتار انتہائی سست ہے۔ حکومت نے راجیو یوا وکاسم کے تحت پہلے زمرہ میں 50 ہزار روپئے کی امداد کا فیصلہ کیا ہے جو صد فیصد سبسیڈی رہے گی۔ ایک لاکھ روپئے تک امداد میں 90 فیصد سبسیڈی اور 10 فیصد بینک لون رہے گا۔ 2 لاکھ روپئے کی امداد میں 80 فیصد اور 4 لاکھ کی امداد میں 70 فیصد سبسیڈی فراہم کی جائے گی اور باقی رقم بینک سے قرض کے طور پر رہے گی۔ امیدوار کی اہلیت کے لئے دیہی علاقوں میں سالانہ دیڑھ لاکھ روپئے جبکہ شہری علاقوں میں سالانہ 2 لاکھ آمدنی کی حد مقرر کی گئی ہے۔ شہری علاقوں میں امیدوار کی 21 تا 55 سال ہونی چاہئے جبکہ دیہی علاقوں میں 21 تا 60 سال عمر کی حد مقرر کی گئی ہے۔ کاروبار کے آغاز کے لئے تمام ضروری شرائط کی تکمیل کے بعد ہی امدادی رقم جاری کی جائے گی۔ ضلع کلکٹرس کی نگرانی میں سلیکشن کمیٹی قائم کی گئی ہے تاہم ضلع کے انچارج وزیر کی سفارش پر امیدواروں کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ راجیو یوا وکاسم اسکیم سے استفادہ کے سلسلہ میں مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور مذہبی تنظیموں اور اداروں کو شعور بیداری کا کام انجام دینا چاہئے تاکہ اسکیم کے ذریعہ اقلیتی نوجوان اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ اِسی دوران صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن عبیداللہ کوتوال نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں درخواستیں داخل کریں کیوں کہ حکومت نے شرائط میں نرمی کردی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر مقررہ نشانہ سے زائد درخواستیں داخل کی جاتی ہیں تو وہ چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے زائد بجٹ کی سفارش کریں گے۔ حکومت نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کی جگہ نئی راجیو یوا وکاسم اسکیم کا اعلان کیا ہے۔1