پرجا پالنا میں دی گئی درخواستیں زیر غور، می سیوا کے علاوہ دیگر آن لائن مراکز پر سہولت کی ضرورت، محکمہ سیول سپلائیز توجہ دے
حیدرآباد۔/11 فروری، ( سیاست نیوز) ریاست میں نئے راشن کارڈز کیلئے درخواستوں کے ادخال کے سلسلہ میں می سیوا مراکز پر عوام کا غیرمعمولی ہجوم دیکھا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے آن لائن درخواستوں کے ادخال کی ویب سائیٹ کل سے بحال کی گئی جس کے بعد نئے راشن کارڈز کیلئے درخواست گذاروں نے می سیوا مراکز کا رخ کیا ہے۔ محکمہ سیول سپلائیز نے عوام کی جانب سے نئے راشن کارڈ کیلئے دباؤ کے پیش نظر آن لائن درخواستوں کے ادخال کی سہولت می سیوا مراکز پر فراہم کی ہے۔ خیریت آباد، مہدی پٹنم اور پرانے شہر میں واقع تمام می سیوا مراکز پر آج صبح سے ہی درخواست گذاروں کا ہجوم دیکھا گیا جو درکار دستاویزات کے ساتھ موجود تھے۔ می سیوا مراکز پر طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں اور پیر کی رات دیر گئے تک بھی می سیوا مراکز پر درخواستوں کے ادخال کا سلسلہ جاری تھا۔ عہدیداروں نے وضاحت کی ہے کہ جن افراد نے پرجا پالنا اور طبقاتی سروے کے علاوہ پرجا وانی پروگرام میں نئے راشن کارڈ کیلئے درخواست دی ہو انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ پرجا پالنا میں راشن کارڈ کیلئے موصولہ درخواستوں کا جائزہ لیا جارہا ہے لہذا عوام کو مزید نئی درخواست داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی دوران محکمہ سیول سپلائز نے آن لائن درخواستوں کے ادخال کیلئے می سیوا مراکز پر 50 روپئے فیس مقرر کی ہے لیکن بیشتر مراکز پر 200 تا 300 روپئے وصول کئے جانے کی شکایات ملی ہیں۔ درخواستوں کے ادخال کیلئے عوام کو افراد خاندان کے آدھار کارڈز اور برقی بل کی کاپی پیش کرنی ہے جس کی اسکیاننگ کرتے ہوئے آن لائن داخل کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک درخواست فارم کو بھی پُر کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ درخواست فارم پُر کرنے اور دستاویزات کی اسکیاننگ کے نام پر می سیوا سنٹرس کے ذمہ دار غریب عوام سے بھاری رقم کا مطالبہ کررہے ہیں۔ درخواستوں کے ادخال کے آغاز کے ساتھ ہی درمیانی افراد بھی میدان میں آچکے ہیں جو فی کس 500 روپئے کی مانگ کررہے ہیں تاکہ قطار میں ٹہرنے کی زحمت کے بغیر درخواست آن لائن داخل کردی جائے۔ عوام کاکہنا کہ محکمہ سیول سپلائز کے عہدیداروں کو می سیوا مراکز کا دورہ کرتے ہوئے زائد رقومات کی وصولی کے خلاف پابند کرنا چاہیئے۔ عہدیداروں کی جانب سے واضح ہدایات کی عدم اجرائی کا می سیوا سنٹرس کے ذمہ دار فائدہ اٹھارہے ہیں۔ حکومت نے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ درخواستوں کے ادخال کیلئے آن لائن سہولت کب تک دستیاب رہے گی۔ مقامی عوامی نمائندوں کے علاوہ رضاکارانہ تنظیموں کو می سیوا مراکز پر عوام کی رہنمائی کیلئے کارکنوں کو متعین کرنا چاہیئے۔ عوام کی سہولت کیلئے حکومت کو چاہیئے کہ آن لائن درخواستوں کے ادخال کی سہولت صرف می سیوا سنٹرس تک محدود کرنے کے بجائے دیگر آن لائن خدمات فراہم کرنے والے مراکز کو راشن کارڈ کیلئے درخواستوں کے ادخال کے سنٹر میں تبدیل کیا جائے تاکہ ہجوم پر قابو پایا جاسکے۔ اس سہولت سے عوام بروقت اپنی درخواستیں آن لائن داخل کرسکتے ہیں۔1