اب تو سوچا ہے کہ پتھر کے صنم پوجوں گا
تاکہ گھبراؤں تو ٹکرا بھی سکوں مر بھی سکوں
ایودھیا کے رام مندر میں چوری نے سارے ملک میں ایک طرح سے سنسنی پھیلا دی ہے ۔ رام مندر میں جو چندے دئے جاتے ہیں ‘ جو عطیات دئے جاتے ہیں اور جو چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں ان کی رقومات کو چوری کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے اور یہ کوئی ایک وقتی واردات نہیں تھی بلکہ مسلسل اس کی رقومات کی چوری کی گئی ہے اور کروڑہا روپئے کا غبن ہوا ہے ۔ سب سے پہلے یہ مسئلہ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھیلیش یادو نے اٹھایا تھا اور یہ دعوی کیا تھا کہ رام مندر کے عطیات اور چندوں میں چوری ہو ئی ہے ۔ جس وقت اکھیلیش یادو نے یہ الزام عائد کیا تو انہیں ہی تنقیدوں کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان پر ہندو مخالف ہونے کے الزامات بھی عائد کئے گئے تھے ۔ تاہم یہ بات دھیرے دھیرے منظر عام پر آئی اور اب تو باضابطہ مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے اور آٹھ افراد کو گرفتار کرکے کچھ لاکھ روپئے برآمد بھی کرلئے گئے ہیں۔ اس سے قبل یو پی حکومت کی جانب سے تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی اور ایس آئی ٹی نے بھی چوری کی توثیق کی ہے ۔ اس سارے معاملے میں بی جے پی نے جو خاموشی اختیار کی ہوئی ہے وہ قابل گرفت ہے ۔ رام مندر کے نام پر پوری سیاست کرنے ‘ انتخابات لڑنے ‘ ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے اور پھر مرکز اور کئی ریاستوں میں اقتدار حاصل کرلینے والی بی جے پی اس سے سارے معاملے سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کر رہی ہے حالانکہ جو مندر ٹرسٹ بنایا گیا ہے وہ خود بی جے پی اور مرکزی حکومت کی منظوری سے بنا ہے ۔ اس ہندو مذہبی عقیدہ سے جڑے ہوئے مسئلہ پر جب کچھ ٹی وی چینلس نے مباحث کروائے تھے ان سے بی جے پی کے ترجمان غائب رہے ۔ بی جے پی اور وشوا ہندو پریشد کے کارندے وہاں پہونچ کر ٹال مٹول کرنے لگے تھے اور گول مول جواب دئے جا رہے تھے ۔ ملک کی کروڑہا ہندووں کے جذبات کا جس طرح سیاسی مقاصد کیلئے استحصال کیا گیا تھا اسی طرح چندہ چوری کرتے ہوئے ان کے مذہبی جدبات کو ٹھیس پہونچائی گئی ہے ۔
اب بھی جو ایس آئی ٹی بنائی گئی تھی وہ بھی ایسا لگتا ہے کہ سارے معاملے کو دبانے کی کوشش ہے کیونکہ ملک میں کبھی بھی کسی ایف آئی آر سے قبل کوئی ایس آئی ٹی نہیں بنی تھی ۔ رام مندر فنڈز کی چوری میں پہلے ایس آئی ٹی بنائی گئی اور پھر بعد میں ایف آئی آر کرتے ہوئے آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ جو گرفتار کئے گئے ہیں ان میں مندر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری کا ڈرائیور بھی شامل ہے ۔ جو شبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ایس آئی ٹی کی تحقیقات اور چند افراد کی گرفتاری درا صل یہاں ہوئی کروڑہا روپئے کی چوری کے معاملے کو دبانے اور پوشیدہ رکھنے کی کوشش ہے ۔ یہ الزامات عائد کئے گئے تھے یہاں تقریبا 200 کروڑ روپئے کی چوری ہوئی ہے تاہم اب ایف آئی آر میںکہا جا رہا ہے کہ صرف سات تا ساڑھے سات کروڑ روپئے کی چوری ہوئی تھی ۔ بینک عہدیداروں پر بھی اس میں ساز باز کا الزام ہے اور تاحال 79 لاکھ روپئے برآمد کرنے کا دعوی بھی کیا جا رہا ہے ۔ مندر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چنپت رائے اور ایک ٹرسٹی بھی مستعفی ہوچکے ہیں تاہم یہ تاثر عام ہی ہے کہ جب چوری کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے تو اصل ذمہ دار خاطیوں کو بچانے اور سارے معاملے کو رفع دفع کرنے کیلئے دکھاوے کے کچھ کام کئے جا رہے ہیں اور حقیقت میں تحقیقات کو آگے نہیں بڑھایا جا رہا ہے ۔
جس طرح سے رام مندر میں چوری ہوئی ہے اور خود مندر ٹرسٹ کے افراد اس میں ملوث رہے ہیں وہ انتہائی شرمناک حرکت ہے ۔ یہ در اصل ملک کے کروڑہا ہندووں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانے والی حرکت ہے اور اس کے باوجود بی جے پی کی خاموشی بھی شبہات کو تقویت دے رہی ہے ۔ یہ پتہ چلانے کی ضرورت ہے کہ اس چوری کا اصل سرغنہ اور ذمہ دار کون ہے اور اس کے اصل محرکات کیا تھے ۔ یہ رقومات کہاں خرچ کی گئیں اور کس حد تک چوری کی گئی ہے ۔ بی جے پی کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی خاموشی پر بھی جو سوال اٹھ رہے ہیں ان کا بھی جواب دیا جانا چاہئے ۔
ایک اور پرچہ کا افشاء
اور اب مہاراشٹرا میں امتحانی پرچہ کا افشاء ہوا ہے ۔ ٹیچرس کے تقررات کیلئے ہونے والے TET کا پرچہ لیک ہوگیا اور پھر امتحان سے ایک دن قبل ہی امتحان کو منسوخ کردیا گیا ہے ۔ یہ دراصل ملک بھر میں بی جے پی حکومتوں کی ناکامی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کے واقعات کے پس پردہ محرکات اور تعلیمی مافیا کا پردہ فاش کیا جانا چاہئے ۔یہ اندیشے اب سر ابھارنے لگے ہیں کہ آیا ملک بھر میں تعلیم کے شعبہ پر مافیا نے تو کنٹرول حاصل نہیں کرلیا ہے جو تعلیم کو تجارت بناتے ہوئے بے تحاشہ دولت بٹور رہا ہے ۔ وقفہ وقفہ سے کسی نہ کسی ریاست میں امتحانی پرچہ جات کا مسلسل افشاء یقینی طور پر حکومت کی ناکامیوں کی عکاسی تو کرتا ہی ہے تاہم یہ اندیشے اب بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ اس کے پس پردہ کہیں مافیا تو سرگرم نہیں ہے جو سارے ملک میں اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے ۔ اس طرح کے واقعات سے نوجوانو کا مستقبل داؤ پر لگ رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ حکومت کو اس کا جواب دینا چاہئے ۔