رام مندر چندہ چوری معاملہ ‘ ٹرسٹ جنرل سکریٹری چنپت رائے کا استعفی منظور

,

   

کرشنا موہن عبوری جنرل سکریٹری مقرر ۔ مستقل جنرل سکریٹری کے تقرر کیلئے بھی سرگرمیاں تیز ۔ وی ایچ پی کے اجلاس میں غور متوقع

لکھنو 6 جولائی ( ایجنسیز ) رام مندر میں عطیات کی چوری کے معاملہ کے دوران رام مندر ٹرسٹ نے جنرل سکریٹریک ے عہدہ سے چنپت رائے اور ٹرسٹی کے عہدہ سے انیل مشرا کا استعفی منظور کرلیا ہے ۔ رام مندر میں چندہ چوری کا معاملہ سامنے آنے اور تحقیقات کے آغاز کے بعد چنپت رائے اور انیل مشرا نے استعفی پیش کردیا تھا ۔ آج مندر ٹرسٹ کے اجلاس میں استعفی منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ٹرسٹ نے کرشنا موہن کو مندر ٹسٹ کے عبوری جنرل سکریٹری کی اضافی ذمہ داری بھی سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ٹرسٹ کے خازن گوند گری نے تین گھنٹے طویل اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ اطلاع دی ۔ کہا گیا ہے کہ بجرنگ باگرا کو چنپت رائے کا جانشین بنانے کی کوشش بھی لو رہی ہے تاہم اس دوران ٹرسٹ نے عبوری جنرل سکریٹری کی حیثیت سے کرشنا موہن کو ذمہ داری سونپ دی ہے ۔ بجرنگ باگر وشوا ہندو پریشد کے جنرل سکریٹری ہیں اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بھی ہیں۔ وہ نالکو کے سربراہ کی حیثیت سے بھی کام کرچکے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ حالانکہ چنپت رائے نے ٹرسٹ جنرل سکریٹری کی حیثیت سے استعفی پیش کردیا ہے تاہم وہ ٹرسٹی کے عہدہ پر برقرار رہیں گے کیونکہ انہوں نے اس عہدہ سے استعفی پیش نہیں کیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ وشوا ہندو پریشد کی قومی عاملہ کا اجلاس 19 اور 20 جولائی کو دہلی میںہونے والا ہے اس میں مندر ٹرسٹ کیلئے مستقل جنرل سکریٹری کے تقرر کے تعلق سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ اہم تنظیمی فیصلے بھی کئے جانے کا امکان ہے اور کچھ افراد کو ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا جاسکتا ہے یا ان کی ذمہ داریوں میں تبدیلی بھی کی جاسکتی ہے ۔ رام مندر میں چوری کا انکشاف ہونے کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جس کے بعد چنپت رائے اور انیل مشرا مستعفی ہوگئے تھے ۔ ایس آئی ٹی کی عبوری رپورٹ کے بعد اس معاملے میں مقدمہ درج کرتے ہوئے آٹھ افراد کو ملزم قرار دیا گیا تھا ۔ ان تمام آٹھ افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آچکی ہے ۔ گرفتار شدگان میں چنپت رائے کے ڈرائیور رام شنکر یادو عرف ٹنو یادو بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چنپت رائے کا ڈرائیور ٹنو یادو اس سارے معاملہ میں اصل سرغنہ ہوسکتا ہے ۔ اس نے اس پر کئے گئے بھروسہ کا بیجا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ دھوکہ دہی کی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے جب ٹنو یادو کے رول کا انکشاف ہوا اور اس کی گرفتاری کا امکان تھا تب اس نے اس چوری کی اطلاع سماجوادی پارٹی کو فراہم کردی تھی ۔ دیگر سات افراد بھی اس وقت تحویل میں ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔