اور ہونگے جن کو ہوگا چاکِ دامانی پہ ناز
ہم جنوں میں چاکِ داماں کو رفو کرتے رہے
راہول کی بھارت جوڑو یاترا
کانگریس لیڈر راہول گاندھی 7 ستمبر سے بھارت جوڑو یاترا کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ راہول گاندھی کی یہ یاترا کنیا کماری سے کشمیر تک کیلئے نکالی جا رہی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ راہول گاندھی جملہ 148 دن کی یاترا میں ملک کی کئی ریاستوں کا احاطہ کریں گے اور ملک میں جاری نفرت کے ماحول کے خلاف رائے عامہ بیدار کرنے کی کوشش کریں گے ۔ حالانکہ راہول گاندھی کی اس یاترا کو غیر سیاسی قرار دیا جا رہا ہے لیکن آج کانگریس پارٹی جس حال میں پہونچ گئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس یاترا کے سیاسی مقاصد بھی ضرور ہیں۔ کانگریس پارٹی ایک طرح سے سب سے کمزور حالت میں پہونچ گئی ہے ۔ اس کا اقتدار محض دو ریاستوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔ یکے بعد دیگرے ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شکستوںکا سلسلہ جاری ہے ۔ کچھ مقامات پر تو کانگریس کی کارکردگی پہلے سے زیادہ کمزور ہوئی ہے ۔ ریاستی اور علاقائی سطح کی جماعتیں بھی اب کانگریس کا ساتھ دینے یا کانگریس کے ساتھ آنے سے پس و پیش کرنے لگی ہیں۔ خود کانگریس پارٹی میں صورتحال ٹھیک نہیں ہے ۔ پارٹی کسی مستقل اور فعال صدر کے بغیر کام کر رہی ہے ۔ ایک طویل وقت کے بعد اب کہیں جا کر پارٹی صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے ۔ کانگریس میں گذشتہ پانچ دہوں سے سرگرم رہنے والے قائدین انتہائی مشکل وقت میں پارٹی کو چھوڑنے لگے ہیں۔ یکے بعد دیگرے کچھ قائدین پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ کچھ قائدین نے حالانکہ پارٹی نہیں چھوڑی ہے لیکن وہ اپنی ناراضگی کو کھلے عام ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اقتدار سے دوری کا نتیجہ ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کانگریس کے بیشتر قائدین کو اقتدار کی عادت ہے ۔ اب جبکہ پارٹی اقتدار سے دور ہے تو ایسے میں قائدین کیلئے پارٹی میں برقرار رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ان قائدین کی نظر میںپارٹی کا مستقبل قریب میں دوبارہ اقتدارپر آنا بھی مشکل ہوگیا ہے ۔ بی جے پی اپنی جگہ مستحکم ہوتی جا رہی ہے اور علاقائی جماعتیں بھی کانگریس سے سیاسی اتحاد کرنے میں پس و پیش کا شکار ہیں۔
جہاں تک کانگریس کی ناقص انتخابی کارکردگی کا سوال ہے تو یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ حالیہ برسوں میں کانگریس پارٹی کا عوام سے رابطہ کم سے کم ہوتا گیا ہے ۔ پارٹی کے ناراض قائدین کی یہ شکایت واجبی ہے کہ فعال اور متحرک قیادت کے بغیر پارٹی مستحکم نہیں ہوسکتی ۔ موجودہ صورتحال میں کانگریس کیلئے عوامی رابطہ سب سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے ۔ پارٹی کے داخلی خلفشار کو ختم کرنے ‘ تنظیمی اصلاحات پر عمل کرنے ‘ قائدین کے اختلافات اور ان کی شکایات کو دور کرنے کی بھی پارٹی کو سخت ضرورت ہے ۔ اس سب کے ساتھ پارٹی کو عوام سے رابطے بحال کرنے اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے پر توجہ کرنے کی ضرورت تھی ۔ اس کے علاوہ آج ملک کا ماحول یہ ہے کہ ہر مسئلہ مذہبی تعصب کا نذر ہوتا جارہا ہے ۔ ٹی وی چینلوں کے ذریعہ الگ سے نفرت پھیلائی جا رہی ہے ۔ سوائے ہندو ۔ مسلم کے کسی اور اہم مسئلہ پر کوئی مباحث نہیں ہو رہے ہیں۔ انتخابات سے قبل عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ ایسے میں راہول گاندھی نے کنیا کماری سے کشمیر تک بھارت جوڑو یاترا شروع کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ کم از کم کانگریس کیلئے ضروری تھا ۔ یہ کہا نہیں جاسکتا کہ اس سے کانگریس کو کتنا فائدہ ہوگا تاہم اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس کے ذریعہ کانگریس کی صفوں میں حرکت ضرور شروع ہوگی ۔ قائدین یاترا کا حصہ بنیں گے ۔ عوام کے درمیان پہونچیں گے اور ان کی شکایات کی سماعت کی جائے گی ۔ ان کی تجاویز کو وصول کیا جائیگا ۔
فی الحال کانگریس پارٹی جس صورتحال کا شکار ہوگئی ہے اور جتنی کمزور ہوگئی ہے اس میں پارٹی کو اپنے طور پر ہی اس سے ابھرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت تھی ۔ راہول گاندھی نے اس ضرورت کو محسوس کیا ہے ۔ وہ نفرت کے ماحول کو ختم کرنے کے نام پر بی جے پی کے ایجنڈہ کو بے نقاب کرنے میں اگر کامیاب ہوتے ہیں تو شائد اس کے کچھ ثمرات کانگریس کو بھی مل جائیں ۔ عوام سے رابطہ ہر سیاسی جماعت کی بقاء کیلئے ضروری ہے اور اس سے کانگریس پارٹی محروم تھی ۔ اب جبکہ راہول گاندھی اس یاترا کا آغاز کر رہے ہیں تو انہیں سماج کے تمام طبقات سے ملاقاتیں کرتے ہوئے انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ ان کی شکایات کی سماعت کرکے انہیں بہتر نتائج کا تیقن دینا ہوگا ۔ فی الحال یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ یاترا کانگریس کیلئے ضروری تھی ۔ اس کے نتائج کو بہتر بنانا پارٹی اور اس کے قائدین کا کام ہے ۔
عآپ اور بی جے پی کی جگل بندی
ملک کے ٹی وی چینلوں پر ان دنوں صرف دو پارٹیاں مصروف رہی ۔دہلی اور پنجاب کی برسر اقتدار عام آدمی پارٹی اور مرکز اور ملک کی بیشتر ریاستوں میں اقتدار رکھنے والی بی جے پی کے قائدین چینلوں پر چھائے رہے ۔ عام آدمی پارٹی کی دہلی حکومت کی شراب پالیسی اور اسکولس کی تعمیر میں اسکام کے الزامات نے ان مباحث میں مرکزی جگہ حاصل کی ۔ سیاسی اعتبار سے ان مسائل کی کوئی زیادہ اہمیت نہیںہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی نے عام آدمی پارٹی کو ایک طرح سے استعمال کرتے ہوئے آئندہ پارلیمانی انتخابات کو محض بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے مابین ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی پنجاب اور دہلی کے باہر زیادہ کچھ اثر انداز ہونے والی نہیں ہے ۔ عام آدمی پارٹی کو بی جے پی کانگریس کی جگہ لا کھڑا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور بی جے پی کے ساتھ مباحث کا حصہ بنتے ہوئے عام آدمی پارٹی جان بوجھ یا پھر انجانے میں بی جے پی کی حکمت عملی کا حصہ بن گئی ہے ۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انتخابات متحدہ اپوزیشن اور بی جے پی کے مابین لڑے جانے چاہئیں ۔ کوئی ایک جماعت اگر راست ٹکراؤ کی بات کرتی ہے تو یہ بی جے پی کی مدد کے مترادف ہے ۔
