راہول کی یاترا ۔ بی جے پی کی بوکھلاہٹ

   

سیاست میں کبھی ایسی بھی حالت پائی جاتی ہے
طبیعت اور گھبراتی ہے جب بہلائی جاتی ہے
بہار میں زبردست عوامی تائید حاصل کرنے کے بعد راہول گاندھی کی ووٹر ادھیکار یاترا اب اپنے اختتامی مراحل میں پہونچنے والی ہے ۔ بہار کے کئی اضلاع سے اس یاترا کا گذر ہوا ۔ اس میں جس طرح سے بہار کے عوام نے شرکت کی اور اس یاترا میں شمولیت اختیار کی وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ایک عوامی سیلاب تھا جو بہار کی سڑکوں پر امڈ آیا تھا ۔ بہار کی اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتادل کے لیڈر تیجسوی یادو بھی اس یاترا میں ہر مرحلہ میں شامل رہے ۔ ان کی پارٹی کی کارکنوں نے بھی پوری شدت کے ساتھ یاترا کو کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ دوسری ریاستوں کے قادین بھی بہار پہونچے اور انہوں نے یاترا سے اظہار یگانگت کیا اور ووٹ چوری کے خلاف مہم کا حصہ بنے ۔ جس وقت سے راہول گاندھی نے ووٹ چوری کا الزام عائد کیا اور بہار میں یاترا شروع کی اسی وقت سے بی جے پی اس تعلق سے فکرمند اور پریشان ہے ۔ سب سے پہلے تو اس نے اپنے تلوے چاٹنے والے اینکرس کے ذریعہ اس کی تشہیر کو ممکنہ حد تک روکنے کی کوشش کی ۔ اسے روکا بھی گیا وہ تشہیر نہیں ہونے دی گئی جتنی ہونی چاہئے تھی ۔ پھر اس یاترا کے تعلق سے عوام کے ذہنوں میں منفی سوالات پیدا کرنے کیلئے پورے غلام اینکرس کی ایک فوج بہار روانہ کردی جو ہر ہتھکنڈہ اختیار کرتے رہے کہ بہار کی اس تاریخی یاترا سے عوام کی توجہ ہٹ جائے اور دوسرے مسائل کو ابھارا جاسکے ۔ اس میں بھی کامیابی نہیں ملی اور سوشیل میڈی اور دوسرے ذرائع سے اس یاترا کی ملک بھر میں زبردست تشہیر ہوئی ۔ ملک کی تقریبا ہر ریاست میں عوام اس مسئلہ سے واقف ہوئے ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی حفاظت کے تعلق سے فکرمند ہونے لگے ہیں۔ ہر حربہ اور ہتھکنڈہ اختیار کرنے کے باوجود جب اس یاترا سے عوام کی توجہ ہٹانے میں ناکامی ہوئی تو بی جے پی ؎اب اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرنے لگی ہے اور وزیر اعظم کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس ملک میں سیاسی قائدین بدترین زبان استعمال کرنے لگے ہیں اور پارلیمنٹ کے ایوانوں کا تقدس تک پامال کیا جا رہا ہے ۔
خود بی جے پی کے قائدین بے شمار مواقع پر ایسے ریمارکس کرچکے ہیں اور ایسے تبصرے کرچکے ہیں جن کی مہذب سماج میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔ اس کے باوجود ان قائدین کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے انہیں انعامات سے نوازا گیا ۔ ہجومی تشدد میں کسی کی جان لینے والے ملزمین کو جیل سے باہر نکلنے پر گلدستے پیش کئے گئے ۔ بلقیس بانو کی عصمت ریزی کی سزا کاٹنے والوں کو سنسکاری قرار دیا گیا ۔ اس وقت اخلاقیات اور شائستگی کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اگر وزیر اعظم مودی کے خلاف کسی نے کانگریس کے اسٹیج سے کوئی غیر شائستہ ریمارک کیا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اس کو گرفتاربھی کرلیا گیا ہے ۔ تاہم اب بی جے پی کے کارکن پٹنہ میں احتجاج کرتے ہوئے کانگریس کارکنوں سے تصادم کی راہ اختیار کر رہے ہیں ۔ یہ سب بی جے پی کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے ۔ بی جے پی کو اس یاترا کو بدنام کرنے یا بہار کے عوام کو اس سے دور کرنے میں ہر کوشش کے بعد ناکام ہونے والی بی جے پی اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔ اسے اس یاترا کی مقبولیت سے خوف لاحق ہوچکا ہے۔ یہ بات بھی حقیقت دکھائی دیتی ہے کہ یہ یاترا صرف بہار تک محدود نہیں رہے گی اور ملک کی مختلف ریاستوں میں بھی اسی طرح کی عوامی تحریک شروع ہونے کے آثار ہیں۔ ایسے میں بی جے پی کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے بی جے پی کی بوکھلاہٹ میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے اور وہ ایسی حرکتیں کرنے لگی ہے ۔
یہ حقیقت سارا ملک جانتا ہے کہ بی جے پی سیاسی مخالفین سے سیاسی لڑائی ہی نہیں لڑتی بلکہ وہ ہر اوچھا حربہ اور ہتھکنڈہ اختیار کرتی ہے ۔ ان کے خلاف مرکزی ایجنسیوں کا بیجا استعمال کیا جاتا ہے تو کہیں انہیں عوام کی نظروں میں رسواء کرنے کیلئے کروڑہا روپئے خرچ کردئے جاتے ہیں۔ کہیں میڈیا ٹرائیل کے ذریعہ نقصان پہونچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کہیں شخصی تبصروں کے ذریعہ بھڑاس نکالی جاتی ہے ۔ تاہم ایسی کوششیں اب کامیاب نہیں ہو پائیں گی کیونکہ عوام ساری حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں اور وہ اب بی جے پی کی اس طرح کی حرکتوں اور حربوں کو ناکام کرنے کیلئے خود ہی آگے آئیں گے ۔