کسانوں کے قرض معافی میں لاکھوں کسان محروم، محض 40 فیصد کو فائدہ ملا
حیدرآباد۔/18 اگسٹ، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے تلنگانہ میں کسانوں کی قرض معافی کے مسئلہ پر کانگریس قائد راہول گاندھی اور صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کو مکتوب روانہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی 40 ہزار کروڑ کے قرض معاف کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن حقیقت میں صرف 17 ہزار کروڑ کے قرض معاف کئے گئے۔ چیف منسٹر کے دعوے اور زمینی حقیقت میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تمام مستحق کسانوں کے قرض معاف کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن محدود تعداد میں کسانوں کو اسکیم سے فائدہ ہوا ہے۔ کے ٹی آر نے راہول گاندھی سے اپیل کی کہ ورنگل میں جاری کردہ کسان ڈیکلریشن کے مطابق ہر قرض دار کسان کا 2 لاکھ روپئے تک کا قرض معاف کیا جائے۔ تلنگانہ حکومت نے ورنگل ڈیکلریشن کو نظرانداز کردیا جبکہ راہول گاندھی نے کسانوں سے قرض معافی کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسکیم پر عمل آوری کیلئے کئی شرائط عائد کیں اور محض 40 فیصد کسانوں کے قرض معاف کئے گئے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ وہ اسکیم سے محروم لاکھوں کسانوں کی جانب سے مکتوب روانہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی اضلاع میں کسان قرض معافی نہ ہونے پر احتجاج کررہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ورنگل ڈیکلریشن میں شرائط کا اعلان نہیں تھا لیکن اسکیم پر عمل آوری کے وقت شرائط کے ذریعہ لاکھوں کسانوں کو محروم کردیا گیا۔ لاکھوں کسان سڑکوں پر احتجاج کیلئے مجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم سے محروم تمام کسانوں کو قرض معافی کے ذریعہ راحت پہنچائی جائے اور یہی کانگریس کے وعدہ کی تکمیل ہوگی۔1