راہول گاندھی اور پرینکا سے مودی حکومت کا ڈر

   

محمد ریاض احمد

ہمارے وطن عزیز ہندوستان میں موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کی دوسری تنظیمیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ تمام وزراء اعظم میں سب سے زیادہ عوامی مقبولیت انھیں ہی حاصل ہوئی۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی قائدین کا یہ دعویٰ کتنا سچ ہے، اس کا اندازہ حال ہی میں جنتر منتر پر اختتام کو پہنچے کاکروچ جنتا پارٹی کے طلبہ احتجاج سے ہوتا ہے۔ صرف دہلی کے جنتر منتر پر ہی نہیں بلکہ مہاراشٹرا، تلنگانہ، کرناٹک، کیرالا اور خود بی جے پی کی زیراقتدار ریاستوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران طلباء و طالبات نے جس طرح کے نعرے لگائے، جس قسم کے پلے کارڈس تھامے رہے اور سوشل میڈیا پر جس قسم کی Reels بنائی گئیں ان سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ طلباء کے اس احتجاج نے حقیقت میں دیکھا جائے تو مودی ہی نہیں بی جے پی کی بھی خوش فہمی کو دور کردیا جو اسے اپنی مقبولیت کے بارے میں لاحق تھی۔ مودی جی ۔ امیت شاہ جوڑی کے ساتھ ساتھ حکمراں جماعت کے دوسرے قائدین اس زعم میں بلکہ غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ ہمیشہ اقتدار پر فائز رہنے والے ہیں، انھیں دنیا کی کوئی طاقت بھی اقتدار سے نہیں ہٹاسکتی۔ بقول اپوزیشن قائدین مودی ۔ شاہ جوڑی نے مرکزی ایجنسیوں کی آزادی اور شفافیت کو بھی ختم کردیا۔ ملک کے انتہائی سینئر اور تجربہ کار سیاستداں شرد چند گوئند راؤ پوار المعروف شرد پوار نے متعدد مرتبہ ببانگ دہل یہ دعویٰ کیاکہ مرکزی ایجنسیاں مودی حکومت کے اشاروں پر کام کررہی ہیں۔ واضح رہے کہ 85 سالہ شردپوار نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ اور رکن راجیہ سبھا ہیں۔ انھیں اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران کئی مرتبہ رکن لوک سبھا اور رکن راجیہ سبھا کے ساتھ ساتھ مرکزی کابینہ میں شامل رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ جہاں تک طلباء کے ہاتھوں مودی جی کی تذلیل کا سوال ہے، شائد مودی جی نے بھی اپنے 76 سال کی عمر میں کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ایک دن ملک کے بچے انھیں اس طرح ذلیل و رسواء کریں گے۔ ہم نے سطور بالا میں آپ کو بتایا کہ 1947ء سے اب تک جو وزراء اعظم گزرے ہیں ان میں سب سے زیادہ ذلت و رسوائی وہ بھی طلباء کے ہاتھوں مودی جی کے حصہ میں آئی ہے۔ اب تک ہمارے ملک میں 14 ریگولر وزرائے اعظم اور دو کارگذار وزیراعظم آئے جن میں پنڈت جواہر لال نہرو، گلزاری لال نندا (کارگذار وزیراعظم (1964ء تا 1966ء) ، لال بہادر شاستری (1964-66)، اندرا گاندھی (1966ء تا 1977ء، 1980ء تا 1984ء) ، مرار جی دیسائی (1977-1979)، چرن سنگھ (1979-1980)، راجیو گاندھی (1984-1989ء)، وی پی سنگھ (1989-1990) ، ، چندرشیکھر (1990-1991)، پی وی نرسمہا راؤ (1991-1996)، اٹل بہاری واجپائی 1996ء، (1998-2004)، ایچ ڈی دیوے گوڑے (1996-1997)، آئی کے گجرال (1997-1998)، ڈاکٹر منموہن سنگھ (2004-2014) خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ نریندر مودی 2014ء سے آج کی تاریخ تک اس عہدہ پر فائز ہیں۔ ان تمام میں مودی جی کی ملک کے بچوں نے نوجوان نسل یعنی Gen-z نے حالت خراب کرکے رکھ دی۔ ان طلباء نے مودی جی کی شان میں جو گستاخانہ نعرے بلند کئے ان نعروں سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ اب کوئی ہیرا پھیری نہیں چلے گی (راہول گاندھی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو جیسے اپوزیشن قائدین اکثر یہی الزامات عائد کرتے ہیں مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان ساز باز کے نتیجہ میں ہیرا پھیری کے ذریعہ بی جے پی انتخابات جیت رہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ الیکشن کمیشن نے بی جے پی سے ساز باز کی سختی کے ساتھ تردید کی) بہرحال ہمارا ضمیر اور قلم اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ طلباء خاص طور پر لڑکیوں نے مودی جی کو کن القابات سے نوازا، طنز و طعنوں کے کون سے تیر برسائے، کس طرح کی گالیوں سے ان کے اعزازات میں اضافہ کیا۔ ایک طرف طلبہ نے مودی جی اور ان کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا دوسری طرف ملک کے قائد اپوزیشن راہول گاندھی اور پارلیمنٹ میں ویاناڈ کی نمائندگی کرنے والی ان کی بہن پرینکا گاندھی نے مودی جی کے ساتھ ساتھ وزیرداخلہ امیت شاہ کی ناک میں دم کرکے رکھ دیا۔ یہ دونوں بھائی بہن جو مودی جی سے 20-22 سال چھوٹے ہیں، مودی جی کے لئے سب سے بڑا سیاسی خطرہ بنتے جارہے ہیں۔ ان دونوں نے زندگی کے ہر شعبہ میں مودی حکومت کی ناکامیوں کو پوری طرح بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے۔ خاص طور پر نیٹ پیپر لیک پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بیانر تلے طلباء نے جو احتجاج کیا اسے کامیابی سے ہمکنار کروانے میں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کا اہم کردار رہا۔ دونوں نے بڑے شاندار طریقہ سے مودی جی کی قیامگاہ کے قریب بیٹھے رہو احتجاج کرکے ہلچل مچادی۔ پولیس نے انتہائی جارحانہ انداز میں کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف راہول گاندھی کو زخمی کردیا (حراست میں لئے جانے کے دوران ان کی ناک سے خون بہہ رہا تھا) بلکہ دوسرے اپوزیشن قائدین کے ساتھ بھی بے رحمانہ سلوک روا رکھا لیکن مودی جی کی حکومت اور دہلی پولیس راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو ڈرانے میں ناکام رہے۔ دوسری طرف سونم وانگچک نے 26 دن تک بھوک ہڑتال کے ذریعہ مرکزی حکومت کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ آپ طلبہ کے ساتھ جس طرح کا جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں ان کے خلاف تشدد کیا جارہا ہے وہ آپ ہی کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ بہرحال ملک کے تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کے خلاف چیف جسٹس آف انڈیا کے ایک توہین آمیز تبصرہ سے وجود میں آنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہروں کے باوجود مرکزی حکومت کی عقل ٹھکانے نہیں آئی لیکن جب میدان میں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کود پڑے تب نہ صرف مودی ۔ شاہ جوڑی کی عقل ٹھکانے آئی بلکہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے سے متعلق طلباء اور اپوزیشن کے مطالبہ کو تسلیم کرکے پردھان کو گھر کا راستہ دکھانے پر انھیں مجبور ہونا پڑا ورنہ ہمیشہ کی طرح انا پرستی، ضد اور ہٹ دھرمی مودی جی کی حکومت کو بڑی مہنگی پڑتی۔