مہرباں ہوکے بُلالو مجھے جب بھی جی چاہے
میں گیا وقت نہیں کہ واپس بھی آ نہ سکوں
راہول گاندھی واپسی کیلئے تیار
کانگریس کی صدارت کا مسئلہ ایک بار پھر التواء کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے کیونکہ پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں یہ طئے کیا گیا کہ آئندہ سال اگسٹ سے ستمبر کے درمیان پارٹی کے صدر کا انتخاب عمل میں آئیگا ۔ اس طرح پارٹی نے مزید تقریبا ایک سال کا وقت حاصل کرلیا ہے جب نئے صدر کا انتخاب ہوگا جبکہ حالات کا تقاضہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی کو ابھی سے آئندہ ہونے والے تمام ریاستی اور عام انتخابات کیلئے کمر کس لینی چاہئے تھی ۔ خود کانگریس پارٹی میں یہ آوازیں اٹھ رہی تھیں کہ پارٹی کیلئے پارٹی میں ایک کل وقتی صدر ہونا چاہئے جس کا عوام کے ساتھ اور پارٹی قائدین و کارکنوں کے ساتھ مسلسل رابطہ ہونا چاہئے ۔ عوامی مسائل کو موضوع بنانے کیلئے صدر کو عوام کے درمیان بھی آنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم پارٹی میں سونیا گاندھی عبوری صدر ہیں لیکن وہ عوامی مقامات پر زیادہ نظر نہیں آ رہی ہیں۔ راہول گاندھی بھی کانگریس کی صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد سے بجھے بجھے سے نظر آئے ۔ حالانکہ کچھ مسائل پر راہول گاندھی نے اپنے طور پر حکومت کو نشانہ بنایا ہے اور اپنے موقف کو واضح کیا ہے لیکن جس جوش و جذبہ کے ساتھ عوامی مسائل پر حکومت کے خلاف محاذ آرائی کی ضرورت تھی اس کا فقدان اکثر و بیشتر محسوس کیا گیا ہے ۔ آج کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سونیا گاندھی نے پارٹی میںتنظیمی رد و بدل کیلئے آواز اٹھانے والوں کیلئے بالواسطہ پیام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ پارٹی کی کل وقتی اور سرگرم صدر ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور بات قابل ذکر یہ رہی کہ راہول گاندھی کے تعلق سے پارٹی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے پارٹی صدارت قبول کرنے پر غور کرنے رضامندی کاا ظہار کیا ہے ۔دو سال قبل راہول گاندھی نے پارٹی صدارت سے استعفی دیدیا تھا اور اس کے بعد سے ہی ان سے اصرار کیا جا رہا ہے کہ وہ پارٹی صدارت دوبارہ قبول کریں لیکن انہوں نے کبھی اس سے اتفاق نہیں کیا تھا ۔ اب حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے صدارت قبول کرنے پر غور کرنے سے اتفاق کیا ہے اور یہ ایک بار پھر راہول گاندھی کی صدارت پر واپسی کا واضح اشارہ ہے ۔
راہول گاندھی اگر پارٹی صدر بنتے بھی ہیں تب بھی اس کیلئے کم از کم دس ماہ کا وقت ہے ۔ اس دوران پارٹی کو تنظیمی ڈھانچہ میں تبدیلیوں اور اس کے استحکام کا عمل مکمل کرلینے کی ضرورت ہے ۔ جب تک تنظیم مستحکم نہیں ہوگی اور سب ایک رائے نہیں ہونگے اس وقت تک کوئی بھی جدوجہد کامیاب ہونی مشکل ہے ۔ جس وقت پارٹی کے نئے صدر کاا نتخاب ہوگا اس وقت تک ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات کا عمل بھی مکمل ہوجائیگا ۔ پنجاب اور گوا سے پارٹی کو امیدیں ہیں۔ اس تعلق سے بھی صورتحال واضح ہوجائیگی ۔ اس کے علاوہ پرینکا گاندھی واڈرا کی قیادت میں پارٹی اترپردیش میں بھی اپنے وجود کا احساس دلانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ یو پی انتخابات میں بھی پارٹی کس حد تک عوام کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے اس پر بھی راہول گاندھی کی واپسی کا انحصار ہوگا ۔ ایک بات اور بھی قابل توجہ یہ ہے کہ راہول گاندھی کو ایک مکمل سیاسی حکمت عملی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ صرف اڈھاک بنیادوں پر کسی مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے پارٹی کی ذمہ داری کی تکمیل نہیں ہوسکتی ۔ جس طرح سے سینئر قائدین نے کہا ہے کہ پارٹی کو ایک کل وقتی اور پارٹی کارکنوں و قائدین کیلئے ہمہ وقت دستیاب صدر کی ضرورت ہے ۔ سینئر قائدین کی اس رائے سے سبھی کو اتفاق کرنے کی ضرورت ہے اور جہاں تک سینئر قائدین کا سوال ہے انہیں بھی پارٹی کے استحکام اور مستقبل میں انتخابی امکانات کو بہتر بنانے کے مقصد سے کام کرنے کی ضرورت ہوگی ۔
راہول گاندھی کو سابق کا کانگریس کی صدارت کا تجربہ ہے ۔ دو سال سے وہ قیادت سے دور بھی ہیں۔ آئندہ اگر وہ صدر بنتے بھی ہیں تو اس کیلئے دس ماہ کا وقت ہے ۔ ایسے میں انہیں سیاسی اعتبار سے پارٹی کو مستحکم کرنے اور عوام سے رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ عوام میں یہ اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ کانگریس خود اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کیلئے تیار ہے ۔ مسائل سے چشم پوشی کرنے کی بجائے ان کا سامنا کرتے ہوئے انہیں حل کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے ۔ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے ساتھ پارٹی کارکنوں اور قائدین میں جوش و جذبہ پیدا کرتے ہوئے ہی کانگریس اپنے سیاسی مستقبل کو بچاسکتی ہے ۔
تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوششیں
مرکز میں بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے مسلسل تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ایسی کوششیں مزید تیز ہوتی اور شدت اختیار کرتی نظر آ رہی ہیں۔ تازہ ترین کوشش میں ملک کے وزیر دفاع نے خود دروغ گوئی کا سہارا لینے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے ساورکر کے برطانوی سامراج کو لکھے گئے مکتوب رحم کے مسئلہ کو مزید الجھا دیا ہے اور ان کا یہ دعوی ہے کہ گاندھی جی کے مشورے پر ساورکر نے برطانوی حکمرانوں کو رحم کی درخواستیں روانہ کی تھیں۔ مورخین اس سے شدید اختلاف رکھتے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ ساورکر نے ایک سے زائد مرتبہ برطانوی سامراج کو رحم کی درخواستیں روانہ کی تھیں اور یہ درخواستیں گاندھی جی کی جنوبی افریقہ سے ہندوستان واپسی سے قبل کی تحریر کردہ ہیں۔ ایک ایسے وقت جبکہ ملک کو کئی چیلنجس اور مسائل کا سامنا ہے اور ملک فاقہ کشی کے انڈیکس میں مزید پیچھے ہوتا جا رہا ہے تاریخ کو توڑ مرو ڑ کر پیش کرنے میں توانائی صرف کرنے کی بجائے مسائل کی یکسوئی پر حکومت اور اس کے ذمہ داروں کو توجہ کرنی چاہئے ۔
