بھارت جوڑو یاترا، کرناٹک میں کامیابی کے بعد پارٹی اور لیڈر میں نیا جوش خوش آئند
نرمل 23 مئی (سید جلیل ازہر) بزرگوں کا قول ہے وقت جب فیصلہ کرتا ہے تو گواہوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ شائد آج ملک کی سیاست میں وقت نے اپنا فیصلہ کردیا ہے۔ کانگریس جس کے قدآور قائدین اور دانشور یہی کہتے آئے ہیں کہ کانگریس کو ہرانا اتنا آسان نہیں۔ اس جماعت کے اچھے دن ضرور شروع ہوں گے۔ ملک میں پھیلی ہوئی نفرت کے تناظر میں وہی کانگریس کی اُمید راہول گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ عوام میں جو اپنی شناخت بنائی، دوران یاترا عوام اور بچوں کے ساتھ ان کا رویہ اور پرینکا گاندھی کی وابستگی، بھائی بہن کی محبت ماں سونیا گاندھی کی شفقت بالخصوص عوام کی طاقت نے انہیں کرناٹک میں اقتدار کا تاج پہناتے ہوئے کانگریسیوں میں ایک نیا جوش و ولولہ بھر دیا۔ مخالفین کی زبان کو تالے لگ گئے، جو کانگریس چھوڑنے کا فیصلہ کرچکے تھے ان کے قدم اسی جماعت میں رُک گئے۔ دنیا بھی بڑی عجیب جگہ ہے جب چلنا نہیں سیکھا تھا تو کوئی گرنے نہیں دیتا تھا اور جب سے چلنا سیکھا ہے تو قدم قدم پر لوگ گرانا چاہتے ہیں۔ یقینا کانگریس میں نئی روح پھونکنے کا سہرا کرناٹک کے عوام کو جاتا ہے تو دوسری طرف پرینکا گاندھی اور راہول گاندھی نے اپنے حسن سلوک اور عوام تک پہونچتے ہوئے جو محنت کی ہے یہ بھی بھائی بہن کا کارنامہ ہے۔ اب سیاسی حلقوں میں یہ بات عام ہورہی ہے کہ کرناٹک میں کانگریس کی لہر تلنگانہ کا رُخ کرتے ہوئے اس ریاست میں طوفان کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ سیاسی لوگوں میں کانگریس کو لے کر مایوسی تھی۔ اب کرناٹک کے بعد ایک نیا جوش آچکا ہے۔ کل رات راہول گاندھی دہلی سے شملہ کے سفر کے دوران امبالہ سے چندی گڑھ جارہی لاری میں سوار ہوگئے، اس ویڈیو کو دیکھ کر آج ہر ایک کی زبان پر یہ بات ہے کہ راہول گاندھی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اب وہ پختہ سیاست داں بن گئے بلکہ غریب کے دُکھ درد کا انہیں اندازہ ہوچلا ہے۔ شاید اسی وجہ انھوں نے لاری میں سفر کرتے ہوئے ایک دھابہ (ہوٹل) پر ڈرائیوروں کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی۔ اس ویڈیو نے سیاسی حلقوں میں دھوم مچادی ہے۔ اسی طرح ان کا ایک ویڈیو بھارت جوڑو یاترا کے دوران وائرل ہوا تھا جب وہ بارش میں بھیگتے ہوئے تقریر کررہے تھے۔ ٹرک میں بیٹھ کر جاتے ہوئے جو وائرل ویڈیو ہے اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اب کانگریس عوام کے دلوں پر چھا رہی ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کرلے کیوں کہ کامیابی صرف محنت کی دیوانی ہوتی ہے، کامیابی کبھی بھی کسی کی شکل دیکھ کر قدم نہیں چومتی۔
