بھارت جوڑو یاترا کو مہاتما گاندھی کے ڈنڈی مارچ اور نمک ستیہ گرہ سے تشبیہ دینے کی کوشش
حیدرآباد۔23۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ سے گاندھی خاندان کے تعلق اور تلنگانہ میں ’’راہول گاندھی ‘‘ کی بھارت جوڑو یاترا کو تاریخی اہمیت کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے۔ تلنگانہ ریاست میں کانگریس کے لئے یہ یاترا کھیل کو تبدیل کرنے والی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ ریاست تلنگانہ سے گاندھی خاندان کا تعلق گہرا رہا ہے اور اس یاتراکو تلنگانہ میں عوام نے جس انداز میں خیر مقدم کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ میں اس یاترا سے کانگریس کا موقف مستحکم ہوگا۔مہاتما گاندھی کے ڈنڈی مارچ اور نمک ستیہ گرہ سے راہول گاندھی کی اس بھارت جوڑویاترا کو تشبیہ دی جانے لگی ہے ا ور کہاجار ہاہے کہ اس یاترا کے ذریعہ راہول گاندھی ملک سے نفرت کے خاتمہ کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حلقہ پارلیمان میدک سے راہول گاندھی کی دادی آنجہانی اندرا گاندھی کا انتخابات میں حصہ لینا اور تلنگانہ میں بی ایچ ای ایل اور ایچ اے ایل جیسے اداروں کے قیام اور تشکیل تلنگانہ کے لئے سونیا گاندھی کی منظوری کی وجہ سے تلنگانہ عوام میں گاندھی خاندان کی اہمیت میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور اب جبکہ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاتراتلنگانہ میں داخل ہوئی ہے تو کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ عوام اپنے خیرخواہ کو فراموش نہیں کرسکتے ۔ذرائع کے مطابق بی ایچ ای ایل ‘ ایچ اے ایل کے علاوہ ای سی آئی ایل اور بی ای ایل کے ملازمین نے بھی بھارت جوڑو یاترا میں حصہ لیتے ہوئے راہول گاندھی سے ملاقات کے لئے وقت فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔م