مودی حکومت کے خوف سے عوام کو باہر نکالنے جدوجہد ، بی جے پی سے مقابلہ کے لیے سب کا ساتھ
حیدرآباد۔2۔نومبر۔(سیاست نیوز) راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا ملک میں خاموش انقلاب کی نقیب ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ رکن پارلیمنٹ وائیناڈ اپنی یاترا کے دوران ہندستانی شہریوں میں پیدا کئے جانے والے آر ایس ایس کے خوف کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کے دستوری اداروں پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے آمرانہ طرز حکمرانی کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جار ہی ہے اور ان کوششوں کو روکنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ راہول گاندھی کی یاترا ہندستان میں دوسری تحریک آزادی کے طور پر دیکھی جانے لگی ہے کیونکہ عوام کو اس یاترا سے نہ صرف توقعات ہیں بلکہ وہ اس جدوجہد کے ذریعہ نئی تبدیلی کے لئے عوام کو آمادہ کرنے والوں میں شمار کئے جائیں گے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد سے راہول گاندھی کی یاترا گذرنے کے بعد عوام میں جو تاثر پیدا ہوا ہے اس کے مطابق راہول گاندھی اپنی یاترا کے ذریعہ عوام کے دلوں میں پیدا کئے گئے خوف کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ وہ اپنے نظریات کے ذریعہ عوام کو بے خوف و خطر نفرت کے مقابلہ کے لئے تیار کر رہے ہیں۔ پرانے شہر میں یاترا کے داخل ہونے کے دوران مقامی عوام سے رائے حاصل کرنے پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گجرات‘ بابری مسجد کے فیصلہ ‘ 370 کی برخواستگی اور طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ دیگر اقدامات کے ذریعہ مودی حکومت نے جو خوف پیدا کیا ہے اسے نکالنے کے لئے عوامی جدوجہد ناگزیر تھی اور اس عوامی جدوجہد کا آغاز جمہوری دائرہ میں راہول گاندھی نے کیاہے ۔ اسی طرح بعض شہریوں نے راہول گاندھی کی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے ذریعہ خوف کو دور کرنے کی کوششوں کے لئے خود کانگریس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر 2002 کے بعد کانگریس بروقت کاروائی کرتی تو آج بھارت جوڑو یاترا کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی ملک کو فاشسٹ حکمرانی کا سامنا ہی نہ کرنا پڑتا۔ راہول گاندھی نے آر ایس ایس کے نظریات اور بی جے پی میں پائے جانے والے خوف کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے مقابلہ کے لئے خود پوری طرح سے تیار ہیں اور اب ملک بھر میں جو لوگ نفرت کے نظریات کے خلاف نبردآزما ہونے کے لئے آمادہ ہیں وہ ان سب کو ساتھ لیکر مقابلہ کریں گے۔ بھارت جوڑو یاترا میں شامل ایک مسلم یاتری نے بتایا کہ ملک بھر میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوؤں میں مسلمانوں کا خوف پیدا کررہی ہے اور مسلمانوں میں بی جے پی اور آرایس ایس کا خوف پیدا کرنے کی سیاست کر رہی ہے اسی طرح ملک کے سیکولر عوام و جہدکاروں کو دستوری اداروں کے ذریعہ ہراساں کرتے ہوئے ان میں خوف پیدا کررہی ہے۔ راہول گاندھی کی یاترا کے دوران وہ ہندستانیوں کے اندر پیدا کئے گئے خوف کو دور کرنے اور بی جے پی یا آرایس ایس سے مقابلہ سے پہلے اپنے اندر پیدا شدہ خوف کو نکالنے کی بات کررہے ہیںجو کہ بنیادی طور پر اپنے دستوری حقوق کے حصول کے لئے ضروری ہے۔ حیدرآباد میں راہول گاندھی کی یاترا کے دوران ملاقات کرنے والوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذمہ داروں نے راہول گاندھی کی یاترا کے ساتھ ان کے نظریات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں نفرت سے زیادہ خوف کا ماحول پیدا کیا گیا ہے اسی لئے قدآور سیاسی قائدین‘ بالی ووڈ اداکار‘ فن کار اور شعراء کے علاوہ جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو بھی خاموش کروایا جا رہاہے یا اپنے مقاصد کے حصول کے لئے انہیں استعمال کیا جا رہاہے لیکن اب کنیا کماری سے شروع ہونے والی اس یاترا کے بعد جو تبدیلی رونما ہورہی ہے اس سے یہ بات ظاہر ہونے لگی ہے کہ خوف کا شکار یا مجبوری کی حالت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد کرنے والے بھی اپنے اندر موجود خوف سے مقابلہ کے لئے تیار ہونے لگے ہیں۔ ملک میں سیاسی قائدین کے علاوہ ذرائع کے ابلاغ اداروں اور صحافیوں کے خلاف کاروائیوں کے ذریعہ حکومت نے جو خوف پیدا کیا ہے اس کا شکار ہونے والے دانستہ یا نادانستہ طور پر عوام میں آر ایس ایس اور بی جے پی کا خوف پیدا کر رہے ہیں اور بھارت جوڑو یاترا دراصل اس خوف کو نکالنے کے مشن پر ہے اگر ہندستانی عوام کے دلوں میں پیدا کئے جانے والے خوف کو نکالنے میں راہول گاندھی کامیاب ہوتے ہیں تو آر ایس ایس یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریات کو زوال کا شکار ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا بشرطیکہ راہول گاندھی کے اس مشن کے مقاصد کو عام ہندستانی شہری سمجھ کر ان کے ساتھ جدوجہد میں شامل ہوں۔ راہول گاندھی یاترا کے دوران اپنی پریس کانفرنس اور عوامی خطابات کے ذریعہ اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ وہ ملک کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ عوام کے درمیان پھیلائی جانے والی نفرت کو دور کرنے اور دلوں میں پیدا کئے گئے خوف کو نکالنے کی مہم پر ہیں اور اگر اس مہم میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ایسی صورت میں خوف کی سیاست کے ان نظریات کے لئے ملک میں کوئی جگہ نہیں رہے گی۔م