کارکنوں کی گرفتاری ، رکن اسمبلی جگاریڈی بھی زیر حراست، یونیورسٹی حکام کے فیصلہ کی مذمت
حیدرآباد۔یکم مئی، ( سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی حکام کی جانب سے 7 مئی کو راہول گاندھی کے پروگرام کی اجازت سے انکار کا مسئلہ سیاسی رنگ اختیار کرچکا ہے۔ کانگریس سے وابستہ طلباء تنظیموں اور عثمانیہ یونیورسٹی طلباء جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے آج دو علحدہ مقامات پر احتجاج منظم کرتے ہوئے حکومت سے عثمانیہ یونیورسٹی میں راہول گاندھی کے پروگرام کی اجازت کا مطالبہ کیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے وابستہ طلباء نے منسٹر کوارٹرس بنجارہ ہلز کے گھیراؤ کی کوشش کی۔ احتجاجی طلباء نعرے لگاتے ہوئے منسٹرس کوارٹرس میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔ این ایس یو آئی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے کر بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ منسٹر کوارٹرس کی سیکوریٹی میں اضافہ کردیاگیا ہے تاکہ مزید کسی احتجاج کو روکا جاسکے۔ اسی دوران این ایس یو آئی کے ریاستی صدر بی وینکٹ کی قیادت میں عثمانیہ یونیورسٹی میں احتجاج کی کوشش کی گئی۔ وائس چانسلر کے چیمبر کے روبرو احتجاج کے مقصد سے کارکن یونیورسٹی میں داخلہ کی کوشش کررہے تھے جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی اور اس کے اطراف کشیدہ ماحول کو دیکھتے ہوئے پولیس کی زائد فورس طلب کرلی گئی۔ اسی دوران کانگریس کے رکن اسمبلی جگا ریڈی گرفتار کئے گئے کارکنوں سے ملاقات کیلئے بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن پہنچے جہاں پولیس نے انہیں بھی حراست میں لے لیا۔ جگا ریڈی نے پولیس کے رویہ پر سخت احتجاج کیا اور کہا کہ جمہوریت میں ہر پارٹی کو احتجاج کی اجازت حاصل ہے۔ راہول گاندھی کے پروگرام کیلئے وائس چانسلر سے اجازت طلب کی گئی تھی لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ پولیس اسٹیشن میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جگاریڈی نے کہا کہ کسی بھی صورت میں راہول گاندھی کو عثمانیہ یونیورسٹی لے جایا جائے گا اور کوئی بھی رکاوٹ کام نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں انچارج تلنگانہ مانکیم ٹیگور سے بات چیت کے بعد لائحہ عمل طئے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے مسائل منظر عام پر آنے کے خوف سے یونیورسٹی حکام راہول گاندھی کو دورہ کی اجازت سے انکار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر خود عثمانیہ یونیورسٹی نہیں جاسکتے اور وہ راہول گاندھی کو بھی روک رہے ہیں۔ جگا ریڈی نے کہاکہ یونیورسٹی میں غیر سیاسی پروگرام کیلئے پھر ایک مرتبہ وائس چانسلر سے نمائندگی کی جائے گی۔ر