مَیں اپنے عظیم ملک کو آگے سے مزید آگے لیجانا چاہتا ہوں ، چشتی کا ٹوئٹ
لندن : سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ کا عہدہ چھوڑنے کے بعد اب اس کے دعویداروں کی فہرست میں برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ رشی سنک سمیت نو دیگر لوگوں کے ساتھ رکن پارلیمنٹ رحمن چشتی اور خارجہ سکریٹری لز ٹرس بھی شامل ہو گئے ہیں۔ایک ٹویٹ میں، رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ میں کنزرویٹو پارٹی کا اگلا لیڈر اور آپ کا وزیر اعظم بننے کے لیے انتخاب میں کھڑا ہوں۔ میرے لئے اس کا مطلب کنزرویٹو کی ایک نئی اڑان ، نئے خیالات اور ایک نئی ٹیم کے ساتھ ہمارے عظیم ملک کو آگے لے کر جانا ہے ۔اس سے قبل ٹرس نے ٹیلی گراف میں ایک مضمون میں کہا تھا کہ وہ بھی اگلی وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں خود کو بھی آگے بڑھا رہی ہوں کیونکہ میرے پاس قیادت کرنے اور درست فیصلے لینے کی صلاحیت ہے ۔ میرے پاس ایک واضح نقطہ نظر ہے کہ ہمیں کہاں ہونا چاہئے ، مقصد تک پہنچنے کے لئے تجربہ اور حل بھی ہے ۔ میں کنزرویٹو کے طور پر الیکشن لڑوں گی اور کنزرویٹو کے طور پر حکومت کروں گی۔ سیکرٹری خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ وزیراعظم منتخب ہوئیں تو پہلے دن سے ٹیکس کم کرنے پر کام شروع کر دیں گی۔