رشتوں کیلئے اچھے اخلاق و کردار اور تعلیم کو ترجیح دیں

   

سیاست و ملت فنڈ سے رشتوں کا دو بہ دو پروگرام، فرزندان ظہیر الدین علی خان کی شرکت، محمد ناظم علی، الیاس باشاہ اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔ 15 ڈسمبر (سیاست نیوز) سیاست اور ملت فنڈ کے زیر اہتمام مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کو رشتہ ازدواج سے منسلک کرنے کے لئے ملک بھر میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد دو بہ دو ملاقات پروگرام جو آج 138 ویں منازل طئے کرچکا۔ آج کے اس پروگرام میں والدین دونوں شہروں کے علاوہ شہر کے دور دراز اور قریبی اضلاع سے اس پروگرام میں شریک ہوئے۔ انجینئرنگ، میڈیسن، پوسٹ گریجویشن اور بیرونی ممالک اور اندرون ملک کی کمپنیوں میں ملازمت کرنے والے لڑکے انجینئرنگ کاؤنٹر پر والدین کی بڑی تعداد لڑکے کے بائیو ڈاٹا کے ذریعہ رشتہ ڈھونڈنے میں دیکھے گئے۔ جناب اصغر علی خان، جناب فخر علی خان فرزندان جناب ظہیر الدین علی خان مرحوم نے پروگرام میں موجود کاؤنٹرس کا معائنہ کیا اور والدین سے بات چیت کئے۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی نے کہا کہ رشتوں کو جوڑنے کا معاملہ بڑی اہمیت اور وقت کی ضرورت ہے جس کے لئے جناب زاہد علی خان، جناب عامر علی خان اور جناب ظہیر الدین علی خان مرحوم نے اس کو محسوس کرتے ہوئے پروگرام کا آغاز کیا جو الحمد للہ 138 ویں پروگرام میں داخل ہوچکا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعہ والدین ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہوئے رشتوں کو حاصل کرنے میں آسانی پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشرہ ان دنوں جہیز اور بڑھتے ہوئے گھوڑے جوڑے کی چکر میں پھنسا ہوا ہے اس لئے اسے نکال کر شادی کو سادگی طور پر منانے کے لئے یہ پروگرام کی تحریک ثمر آور ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے لڑکی کا قد، رنگ و روپ اور عمر کو نہ دیکھتے ہوئے ان کے اخلاق و کردار، تعلیم اور امور خانہ داری سے واقفیت پر نظریں رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک دوسرے کے درمیان خود اعتمادی، صالح سوچ کے نہ ہونے کی وجہ سے آپسی لڑائیاں انہیں عدالت اور کچہری کی طرف سے جاری ہے جب کہ ایک دوسرے میں اگر صبر و تحمل، برداشت کرنے کی عادت ہوگی تو زندگیاں بہتر سے بہتر ہوسکیں گی۔ جناب الیاس باشاہ نے کہا کہ اولاد ایک نعمت ہے اس کی قدر کریں اور انہیں تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں تو ان کی زندگیاں بھی خوشگوار ہوں گی۔ اس لئے آج ضروری ہے کہ اسراف، دھوم دھام کی شادی، گانا بجانا و ناچ، ڈی جے اور دوسری خرافات سے اور شادیاں نہ ہوں سادگی کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست کی نگرانی میں اس پروگرام کا آغاز کیا گیا تو شہر کی سماجی، فلاحی تنظیموں کے علاوہ اضلاع اور دیگر ریاستوں کے تنظیموں نے پروگرام کو سراہنائی اور اپنایا۔ آج یہ پروگرام مختلف مقامات پر دیگر تنظیمیں کررہی ہیں جو سیاست کی دین ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ اپنی اولاد کو سیل فونس سے دور رکھیں بالخصوص جو لڑکیاں جنہیں رشتہ ازدواج سے منسلک ہونا ہے اور ہوچکی ہیں وہ فون سے دور رہیں۔ یہ فون آج گھرانوں میں دراڑیں پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ آج کا یہ دو بہ دو ملاقات پروگرام دفتر روزنامہ سیاست کے عابد علی خان سنیٹری ہال جواہر لعل نہرو روڈ، حیدرآباد میں رکھا گیا تھا جہاں حسب سابق پروگرام کی طرح میڈیسن، انجینئرنگ، پوسٹ گریجویٹس، ایم بی اے، ایم سی اے، گریجویٹس، انٹر، ایس ایس سی، عالم و فاضل اور عقد ثانی کے علاوہ تاخیر سے شادی، معذور لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتوں کے کاؤنٹرس رکھے گئے تھے جہاں والدین پہنچ کر بائیو ڈاٹا کی مدد سے ایک دوسرے سے گفتگو کی۔ ان کاؤنٹرس کے علاوہ آن لائن رجسٹریشن کاؤنٹر بھی رکھا گیا جہاں رجسٹریشن والدین نے کروایا تاکہ اپنے اپنے گھروں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے آن لائن مدد سے رشتہ ڈھونڈسکے۔ اس سے استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ ہیلپ لائن کی مدد بے بس بہت سارے والدین نے پروگرام کی تفصیلات معلوم کیں۔ اس پروگرام میں مختلف کاؤنٹرس پر مسرس لطیف النساء، کوثر جہاں، آمنہ خان، عشرت پروین، سیدہ تسکین، رائیس النساء، فرزانہ بانو، محمد احمد، ڈاکٹر دردانہ، شہناز فاطمہ، یاسمین، محمدی، سمرین، ثانیہ نے بھی والدین کی رہنمائی کی۔ اس کے علاوہ صفدر، سلمان، احمد، عامر، محمد شعیب، شیکھر اور نظام الدین نے حصہ لیا۔ پروگرام میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ کاؤنٹرس رکھے گئے تھے جس میں والدین نے اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے بائیوڈاٹاس رجسٹریشن کروائے۔ اس دو بہ دو پروگرام کو خصوصی طور پر براہ راست ٹیلی کاسٹ سیاست کے فیس بک، یک اسکیپ، یو ٹیوب پر کیا گیا تاکہ ناظرین راست طور پر یہ پروگرام دیکھ سکیں جس کے لئے حیدرآباد میں نہیں بلکہ ملک کی تمام ریاستوں کے اضلاع، بیرونی ممالک، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، سعودی عرب، دوحہ قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں ناظرین نے اس پروگرام کو دیکھ کر نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔ جناب خالد محی الدین الدین اسد اور غلام محی الدین، محترمہ فرزانہ، بانور اور دوسروں نے سوپروائزنگ کے فرائض انجام دیئے۔ شہ نشین جناب فاروق، محمد احمد، جناب الیاس باشاہ، جناب محمد ناظم علی، جناب صالح بن عبداللہ باحازق اور دوسرے موجود تھے۔ جناب صالح بن عبداللہ باحازق کارروائی چلائی۔ والدین کا خیرمقدم کیا اور ان کے شکریہ پر یہ دو بہ دو ملاقات پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔