نکاح قانونِ فطرت ہے ، انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی سنت ہے ، تسکین نفس کا حلال و پاکیزہ طریقہ ہے ، باہمی اُنست و اُلفت کے علاوہ افزائش نسل کا ذریعہ ہے ۔ تمدنی معاشرت کی بنیاد ہے اور بلاشبہ انتظامِ خانہ داری کا رُکن رکین ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے اپنے عمل سے اس کو رائج فرمایا اور اپنی اُمت کو بھی تلقین فرمائی ، نیز سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام نے نکاح کا اہتمام فرمایا ۔ اِرشادِ الٰہی ہے : ’’تحقیق کہ ہم نے آپ سے پیشتر رسولوں کو مبعوث کیا اور اُن کے لئے بیویوں اور اولاد کو بنایا ‘‘ ۔ ( سورۃ الرعد ؍ ۳۸) اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان باہمی پیار و محبت اور جذبۂ ہمدردی و غمخواری کو آیات قدرت سے تعبیر فرمایا ۔ ارشاد الٰہی ہے : ’’اور اسی کی آیتوں میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری جانوں سے بیویوں کو بنایا تاکہ تم سکون پاؤ اور تمہارے درمیان محبت و رحمت کو بنایا یقیناً اس میں غور و فکر کرنےوالی قوم کے لئے نشانیاں ہیں‘‘۔ (سورۃ الروم ؍ ۲۱)
یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر میاں بیوی میں سے ہر ایک کو یکساں اختیارات اور مساوی درجہ دیا جاتا تو اس رشتہ کی پائیداری اور اس کا استحکام خلل پذیر ہوجاتا ۔ اس لئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مرد کو عورتوں پر ’’قوام‘‘ یعنی نگران بنایا اور عورتوں کو کسب معاش سے مستغنی کردیا حتی کہ اُن کو اُن کے نفقہ سے بے نیاز کردیا اور اُن کی تمام تر ذمہ داری مثلاً نان نفقہ ، کپڑے ، رہائش اور ضروریات زندگی کی تکمیل شوہروں پر لازم کردی۔ اسی وجہ سے اللہ تعالی نے مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت دی ۔ ارشاد ربانی ہے ’’البتہ مردوں کو اُن (عورتوں) پر فضیلت ہے‘‘ (سورۃ البقرہ ؍۸۲۲) ’’مرد، عورتوں پر نگران ہیں، اس لئے کہ اللہ تعالی نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ مرد اُن پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں‘‘ ۔ (سورۃ النساء؍۳۴)
لیکن جہاں تک حقوق کا تعلق ہے، اس میں شوہر و بیوی دونوں مساوی ہیں۔ جس طرح بیوی کے فرائض و ذمہ داریاں ہیں، اسی طرح شوہر پر بھی فرائض و ذمہ داریاں ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے ’’(دستور کے مطابق) عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں، جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں‘‘ (سورۃ البقرہ؍۲۲۸)
اُمور خانہ داری کی تنظیم و تدبیر اور عائلی نظام کے استقرار کے لئے شوہر کو نگران، محافظ اور منتظم بناکر بیوی پر اس کی اطاعت و فرماں برداری کو لازم گردانا گیا، ساتھ ہی شوہر کو بیوی کے ساتھ حسن معاشرت اور بہترین سلوک کرنے کی تلقین کی گئی ۔ ارشاد الٰہی ہے ’’اور تم اُن عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤ کرو اور اگر تم اُنھیں پسند کرتے ہو تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ تعالی اس میں بہت سی بھلائی رکھ دے‘‘۔ (سورۃ النساء؍۱۹)نیز نبی اکرم ﷺ نے شوہروں کو بیویوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : ’’تم میں بہترین وہ شخص ہے جو اپنے اہل و عیال ( بیوی ، بچوں ) کے ساتھ اچھا ہو۔ خصوصیت کے ساتھ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر شوہروں کو اپنی بیویوں سے بھلائی کا معائنہ کرنے کی تلقین فرمائی ۔ ارشاد نبویؐ ہے ’’تم عورتوں سے بھلائی کا معاملہ کرو ‘‘ ۔
میاں بیوی کا رشتہ درحقیقت دو تن ایک روح، دو قالب اور ایک دل کی مانند ہوتا ہے۔ یہ رشتہ دو اجنبی اور پرائے افراد میں ایسی اُنست، اُلفت اور محبت پیدا کردیتا ہے، جس کی وجہ سے دونوں کی منفعت اور نقصان ایک ہو جاتے ہیں۔ دونوں کے مقاصد مشترک ہوجاتے ہیں، دونوں ایک ہی منشاء کے مطابق جستجو کرتے ہیں اور دونوں کی منزل ایک ہی ہوجاتی ہے۔ اس پاکیزہ رشتہ کی بنیاد مخصوص قاعدوں پر منحصر نہیں ہے اور نہ ہی اس کے مقررہ حدود و قیود ہیں بلکہ حسب ارشاد الٰہی ’’وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْـمَةً ۚ‘‘ (سورۃ الروم ؍ ۲۱) اس رشتہ کا دار و مدار پیار و محبت، ایثار و قربانی، احساس ذمہ داری، صبر و تحمل، وارفتگی و جاں نثاری اور ایک دوسرے کے احترام پر ہے۔
بناء بریں اسلام نے ازدواجی و عائلی نظام کو نہایت قوت و استحکام عطا کیا ۔ چوں کہ اسلامی تعلیمات میں مرد و زن کے فطری تقاضوں اور ضروریات کے ساتھ اُن کے فطری مسائل و مشکلات کو ملحوظ رکھا گیا ہے، اسی کے مطابق نہایت عدل و انصاف اور توازن پر مبنی احکام و تعلیمات کو مقرر کیا گیا ۔ چنانچہ میاں بیوی کے درمیان اختلافات نزاعات ، ناچاقی کا پیدا ہونا فطری ہے ۔ اگر بیوی مسائل پیدا کرے تو شوہر کو حکم ہے کہ وہ فی الفور فیصلہ کرنے کے بجائے صبر و تحمل اور عقل و دانائی سے کام لے اور بیوی کو وعظ و نصیحت کرے اور اگر وعظ و نصیحت کارگر نہ ہو تو اس کے بستر کو الگ کردے تاکہ اُس کو اپنی غلطی کا احساس ہوجائے ، یہ صورت بھی کارگر نہ ہو اور بیوی حد سے زیادہ تیز ہو جیسے بعض شوہر پر ہاتھ اُٹھاتی ہیں تو اس کو ہلکی سی تنبیہ اور سرزنش کرنے کی اجازت ہے ۔
یہ سارے اُصول و طریقے خواتین کی فطری کیفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کئے گئے ہیں ۔ مقصود یہی ہے کہ ہر ممکنہ طریقہ سے رشتۂ ازدواج کو باقی رکھنے کی کوشش کی جائے ۔ اور اگر میاں بیوی آپس میں اپنے مسائل کو حل کرنے پر قادر نہ ہوں تو ایسی صورت میں ثالث (Third Party) سے تعاون کی خواہش کی جائے اور جو زوجین کے خاندان میں سمجھدار و سنجیدہ ہوں ۔ حالات کو سمجھ کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ہوں اُن سے رجوع کیا جائے ۔ بہرصورت نوبت طلاق و تفریق تک نہیں پہنچانا چاہئے ۔ اور اگر میاں بیوی میں اصلاح کرنے ، مسائل کو حل کرکے خوش اسلوبی سے زندگی گزارنے کا جذبہ ہو تو حسب ارشاد الٰہی اللہ تعالیٰ کی مدد و توفیق شامل حال ہوتی ہے ۔ ( تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجئے : سورۃ النساء ۴ ؍ ۳۴۔۳۵) اور اگر زیادتی شوہر کی جانب سے ہو تو بیوی وعظ و نصیحت سے کام لے ، اصلاح کی تدبیر کرے خاندان کے اکابر کے ذریعہ مصالحت کی کوشش کرے اور اگروہ ظلم سے باز نہ آتا ہو اور حقوق ادا نہ کرتا ہو تو بیوی ظلم و زیادتی کو روکنے اور حقوق طلبی کے لئے طاقت و قوت کے استعمال کے علاوہ قانونی مدد حاصل کرسکتی ہے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان اصلاح کی ساری تدبیریں ناکام ہوجائیں اور موافقت کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو ایسی صورت میں طلاق کی گنجائش رکھی گئی کیونکہ بسا اوقات علحدگی ہی زوجین اور اُن دونوں گھرانوں کے لئے بہتر ہوتی ہے لیکن خاندانی نظام کے استقرار کے پیش نظر طلاق کااختیار صرف مرد کو دیا گیا ، ہر دو کو طلاق کے اختیارات حاصل ہوں تو کثرت سے طلاق کے واقعات کا اندیشہ رہتا ہے ، اس لئے طلاق کے دائرہ کار کو محدود کیا گیا ۔ واضح رہے کہ عیسائیت اور ہندومت میں طلاق کا تصور ہی نہیں ۔ ہندو کوڈ کے نفاذ کے ذریعہ ہندو پرسنل لاء میں طلاق اور عورت کے لئے عقدثانی کا اختیار دیا گیا ، عیسائی پرسنل لاء میں عورتوں کو بھی طلاق کااختیار دیا گیا جس کے نتیجے میں آج مغربی ممالک میں عائلی نظام ، خاندانی استحکام ختم ہوچکا ہے ۔ علاوہ ازیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اﷲ عزوجل کے نزدیک مباح چیزوں میں مبغوض ترین شئی طلاق ہے۔
(مشکوٰۃ المصابیح ج : ۲ حدیث نمبر ۳۱۳۹)
حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا : روئے زمین پر اﷲ تعالیٰ نے کوئی چیز ایسی پیدا نہیں کی جو غلام آزاد کرنے سے زیادہ اس کو محبوب ہو اور روئے زمین پر اﷲ نے کوئی ایسی شئی پیدا نہیں کی جو طلاق سے زیادہ اس کو ناپسندیدہ ہو۔(دارقطنی)
مسند احمد ، ابوداؤد اور مسند دارمی میں ہے : جو کوئی خاتون بلاوجہہ اپنے شوہر سے طلاق طلب کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ جو چیز اﷲ تعالیٰ کے نزدیک جس قدر ناپسندیدہ و مکروہ ہو وہی چیز شیطان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوتی ہے کیونکہ شیطان کو تفرقہ ، انتشار پسند ہے ۔ کیونکہ اختلاف و نزاع کی صورت میں مکر و فریب کا جال بچھانا آسان ہوجاتا ہے اور نہایت آسانی سے انسان شیطان کا شکار بن جاتا ہے ۔ اس علحدگی کا نقصان نہ صرف میاں بیوی کو ہوتا ہے بلکہ ان کے افراد خاندان کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے بالخصوص اولاد کی زندگی اور ان کی ذہنی نشونما پر نہایت مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مسلم شریف کی روایت کے مطابق شیطان اپنے لشکر میں اس کو شاباشی دیتا ہے جو میاں بیوی میں تفرقہ ڈالتا ہے ۔