نیویارک: اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے ‘رفح میں جنگ کی تو اسلحے کی بعض اقسام کی سپلائی روکے جانے کی دھمکی’ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔اسرائیلی سفیر نے کہا’ یہ امریکی بیان بڑی مشکل اور مایوسی والا ہیجو صدر جوبائیڈن کی طرف سے سننے کو ملا ہے۔ ‘اس پر اس لیے بھی اسرائیلی سفیر نے زیادہ مایوسی ظاہر کی ہے کہ ان کے بقول یہ بیان اس امریکی صدر نے دیا ہے جس نے جنگ کے آغاز سیاب تک کی ساری اسرائیلی جنگ کے دوران اسرائیل ہر ممکن حمایت کی ہے اور اس وجہ سے اسرائیل امریکہ کا ممنون رہا ہے۔اسرائیلی سفیر گیلاد اردان کا یہ بیان اسرائیل کے سرکاری ریڈیو سے نشر ہوا ہے۔یہ صدر جوبائیڈن کے انتباہی بیان پر اسرائیل کا سب سے پہلا رد عمل ہے جو اب تک سامنے آیا ہے۔واضح رہے اسرائیل نے غزہ میں جنگ کے سات ماہ مکمل ہونے کے ساتھ ہی رفح پر فوجی ٹینکوں کی چڑھائی سے عالمی برادری کی طرف سے رفح پر حملہ نہ کرنے کے مطالبات کو عملی طور پر رد کر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ رفح حماس کی باقی ماندہ چار فوجی بٹالینز کا گھر ہے۔ اس لیے رفح پر حملہ انتہائی ضروری ہے۔صدر جوبائیڈن نے اپنے تازہ بیان میں صاف انداز سے کہا ہے کہ ‘ اگر انہوں نے رفح میں جنگ کی تو میں ان کو وہ اسلحہ فراہم نہیں کروں گا جو اس سے قبل شہری آبادیوں میں اسرائیل استعمال کر چکا ہے۔ امریکی صدر نے یہ انتباہ سی این این کو دیے گئے ‘ انٹرویو کے دوران کیا ہے۔صدر جوبائیڈن نے کہا ‘انہی بموں کی وجہ سے غزہ میں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ لیکن یہ سب بالکل غلط ہے۔ گیلاد اردان نے کہا کہ بائیڈن کے ان ریمارکس سے اسرئیل کے درمیان ایران، حماس ، حزب اللہ وغیرہ کو اپنی کامیابی کی امید نظر آنے لگے گی۔’اگر ہمیں رفح کے وسط میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے تو وہاں موجود ہزاروں دہشت گردوں کو فائدہ ہو گا۔