واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع لائیڈ آسٹن نیاسرائیلی وزیردفاع یوآو گیلنٹ سے فون پربات کرتے ہوئے زور دیا ہیکہ رفح میں کسی بھی ممکنہ فوجی آپریشن سے قبل شہریوں کی حفاظت اور انسانی امداد کے بلاتعطل بہاؤ کو یقینی بنانے کی ’’ناقابل تردید ضرورت‘‘ ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ریپبلکن کے زیر کنٹرول بل میں صدر بائیڈن سے اسرائیل کو ہتھیار بھیجنے کی حمایت کی جائے گی۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹگان) نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب یوآو گیلنٹ کے ساتھ غزہ میں ایک تیرتی بحری گودی کھولنے کیلئے امریکہ کی جانب سے محصورین کی امداد میں اضافے کیلئے ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہیکہ دونوں وزراء دفاع نے غزہ میں فلسطینیوں کیلئے انسانی امداد میں اضافہ کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا، جس میں کارم شلوم اور رفح کراسنگ سے امداد کی ترسیل بھی شامل ہے۔ آسٹن نے رفح میں کسی بھی ممکنہ اسرائیلی فوجی کارروائی سے قبل فلسطینی شہریوں کے تحفظ اور امداد کے بہاؤ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان نے ڈیموکریٹک صدر کی غزہ میں جنگ کے دوران شہریوں کے تحفظ کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کیلئے بموں کی کھیپ بھیجنے میں تاخیر پر سرزنش کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیل کو سکیورٹی امداد کی حمایت کرنے والے قانون کو ووٹنگ کے دوران 224 ووٹوں کے مقابلے میں 187 ووٹوں سے منظور کیا گیا جو کہ زیادہ تر جانبداری کی بنیاد پر تھا۔ 16 ڈیموکریٹس نے ہاں میں ووٹ دینے میں زیادہ تر ریپبلکنز میں شمولیت اختیار کی، جبکہ تین ریپبلکنزنے اس اقدام کی مخالفت میں ووٹ دیا۔اگرچہ اس قانون کے موثر ہونے کی توقع نہیں ہے، لیکن اس کی منظوری اسرائیل کے تئیں پالیسی کے حوالے سے امریکی انتخابی عمل میں گہری تقسیم کی عکاسی کرتی ہے۔