رمضان کے قیمتی اوقات کو شاپنگ اور کھانے پینے کے نام پر ضائع نہ کریں
شاہی مسجد باغ عام میں مولانا
ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 2 مارچ (پریس نوٹ) مولانا ڈاکٹراحسن بن محمد الحمومی امام و خطیب شاہی مسجد باغ عام نے کہا کہ رمضان المبارک میں انسان کی تین چیزوں میں نمایاں ترقی ہوتی ہے۔ پہلا روحانیت ہے۔ اس ماہ ہم اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط کریں۔ دوسرا رمضان میں انسان کی ذہنی صحت میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسان مکمل متحرک ہوجاتا ہے۔ ماہ رمضان کا تیسرا فائدہ جسمانی ترقی ہے۔ انسان سال بھر خوب کھا کھا کر اپنے جسم میں ناکارہ مادوں اور چربی کو جمع کرلیتا ہے اور ان سے بہت سی چربی اور مادے یوں ہی انسانی جسم میں جمع ہوتے رہتے ہیں۔ روزوں کے دوران یہی فاضل اجزا انسانی جسم کی توانائی میں تبدیل ہو کر استعمال میں آتے ہیں اور وہ خارج بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ روزوں کا سب سے بڑا فائدہ ہے کہ انسان کا جسم مزید توانا ہوجاتا ہے۔ جب کہ لوگوں کو غلط فہمی ہوتی ہے کہ رمضان میں روزوں سے جسم کمزور ہوتا ہے۔ مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ یہ تصور کرنا چاہیے کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اور میں اللہ کے سامنے ہوں۔ اسے تقویٰ کہتے ہیں۔ رمضان المبارک اسی فکر کی تربیت کا مہینہ ہے۔ ہم ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے اطراف کے لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے، وہ ہمارے بارے میں کیا کہیں گے؟ جب کہ اللہ یہ چاہتے ہیں کہ اس کے بندوں کا تعلق رب سے مضبوط ہو جائے۔ رمضان المبارک انسان کو بہت ہی منظم، کارکرد اور بہترین انسان بننے میں مدد دیتا ہے۔ اسے سمجھنے کیلئے ہمیں انسانی جسم کی ساخت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انسان، جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ عام طور پر ہم جسمانی ضروریات سے واقف ہوتے ہیں۔ بچپن سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک کے بارے میں ہمیں جسمانی ضروریات کے بارے میں مکمل علم ہے، لیکن روح کی غذاا ور ضرورتوں سے ناواقف ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنا نائب اور مخلوق میں اشرف بنایا۔ یہ درجہ روح کی وجہ سے حاصل ہے۔ ہم روحانی تقاضوں سے ناواقف ہیں۔ جسم جس طرح تندرست، بیمار، صحت بخش غذاوں کا ضرورت مند اور نقصاندہ چیزوں سے حفاظت کا محتاج ہے؛ اسی طرح روح بھی اپنی ضروریات رکھتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہم نے روحانی پہلو کو نظر انداز کیا۔ اسی وجہ سے ہم لوگ سطحی اور ادھوری زندگی گزار رہے ہیں۔ اللہ نے جسم کی طاقت کیلئے کھانا، پانی، ہوا اور دیگر ضروریات عطا کی ہیں، اسی طرح روح کی بھی بنیادی ضروریات ہوتی ہیں۔ رمضان کے سلسلے میں اللہ کا جو مقصد ہے، اسے ہم اپنی روش سے بدل رہے ہیں۔ ماہ رمضان اعلی مقاصد کا حامل ہے۔ افطار اور سحری کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم دن تمام بھوکے رہ کرافطار اور سحری میں کسر نکال دیں۔ سحر تو اس لیے ہے کہ انسان کو تھوڑا سا سہارا مل جائے، لیکن اتنی سحر کرلینا کہ اس سے افطار تک بھوک نہ لگے، یہ مکروہ سحرہے۔ روزوں سے جسم کمزور نہیں ہوتا، روح کو ترقی حاصل ہوتی ہے۔