نماز جمعہ کے دوران برقی گل ، حکومت اور محکمہ برقی اور سیاست دانوں کی پہلوتہی
حیدرآباد۔ شہر حیدرآبا دمیں برقی سربراہی اور ماہ رمضان المبارک کے دوران برقی سربراہی کے خصوصی انتظامات کے لئے عہدیداروں کا تقرر اور ان کی نگرانی میں بلا وقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے سرکاری اقدامات بھی اب قصۂ پارینہ ہوچکے ہیں اور جاریہ ماہ رمضان المبارک کے دوران سحر اور افطار کے وقت ہی نہیں بلکہ کسی بھی وقت برقی سربراہی کا منقطع کیا جانا معمول کی بات بن چکی ہے اور یہ ایسے دور میں ہورہا ہے جب نہ صرف ملک بلکہ ریاست اور شہر حیدرآباد میں ہزاروں کی تعداد میں کورونا وائرس کے متاثرین گھروں میں قرنطینہ کئے ہوئے ہیں اور ان میں بیشتر گھروں میں آکسیجن پر ہیں اور آکسیجن کیلئے کنسنٹریٹر کا استعمال کر رہے ہیں۔ آکسیجن کنسرٹریٹر کے لئے بلا وقفہ برقی سربراہی کا ہونا لازمی ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود شہر حیدرآباد جسے انفارمیشن ٹکنالوجی کا مرکز کہا جا رہاہے اس شہر میں بلا وقفہ معیاری برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو کہ انسانیت سے دشمنی کے مترادف ہے۔ پرانے شہرکو طبی ایمرجنسی کی اس صورتحال میں جس بری طرح سے نظر انداز کیا جا رہاہے اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پرانے شہر کو تلنگانہ کا حصہ تصور نہیں کیا جا رہاہے اور پرانے شہر کی نمائندگی کرنے والے حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے مسائل کو حل کروانے کے بجائے مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے عوام کی مشکلات میں اضافہ کے مرتکب بن رہے ہیں۔ماہ رمضان المبارک کے دوران بلا وقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے لئے سابق میں متعدد اقدامات کئے جاتے تھے ۔ عوام کا کہناہے کہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہنگامہ آرائی کی جاتی تھی لیکن اب وہ قائدین گونگے‘ اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں جو کہ عوامی مسائل پر توجہ دینے کے دعوے کرتے ہیں اور انہیں پرانے شہر میں کوئی مسائل نظر ہی نہیں آرہے ہیںاور نہ ہی انہیں عوام کی آہ و بکا سنائی دے رہی ہے بلکہ کچہرے کے مسائل ہوں یا برقی سربراہی کا مسئلہ ہویا پھر پرانے شہر کے علاقو ںمیں آکسیجن بستروں کا معاملہ ہو کسی بھی مسئلہ پر شہر کی نمائندگی کرنے والوں کی جانب سے کوئی آواز نہیں اٹھائی جا رہی ہے جو کہ شہریوں کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنا ہوا ہے۔ پرانے شہر کے علاقہ میں نماز جمعہ سے عین قبل برقی سربراہی منقطع ہونے کی شکایات موصول ہوئی اور زائد از تین گھنٹوں تک برقی سربراہی کے بحالی کے اقدامات نہیں کئے جاسکے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹیڈ کے عہدیداروں نے بتایا کہ برقی سربراہی میں پیدا ہونے والے خلل کی کئی ایک وجوہات ہیں جس میں برقی کی طلب میں ہونے والا اضافہ بھی ایک وجہ ہے لیکن عہدیداروں کی اس دلیل کو تسلیم کرنا دشوار ہے کیونکہ گذشتہ برسوں کے دوران ماہ رمضان المبارک میں رات دیر گئے تک تجارتی بازار کھلے رہا کرتے تھے اور اضافی برقی کا استعمال ہوا کرتا تھا لیکن اس کے باوجود کوئی مسائل نہیں ہوتے تھے لیکن گذشتہ دو برسوں سے صورتحال یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔