حیدرآباد ۔رمضان میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں فالج کے معاملاتکم ہو جاتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ اکثر لوگوں کا تمباکو نوشی سے گریز، بہتر بلڈ پریشر اور شوگر قابو اور روزہ رکھنے کے نتیجے میں کولیسٹرول کا کم ہونا ہے۔اس بات کا انکشاف آغا خان یونیورسٹی سے وابستہ معروف نیورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نے آٹھویں بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2022 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دو روزہ بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی اور ڈائبیٹیز اینڈ رمضان انٹرنیشنل لائسنس کے تعاون سے منعقد کی جارہی ہے۔معروف نیورولوجسٹ پروفیسر محمد واسع کے بموجب رمضان کے روزے رکھنے کے ذہنی اور اعصابی صحت کے لیے بے شمار فوائد ہیں اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزے رکھنے سے گھبراہٹ، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں میں کمی واقع ہوتی ہے، ادویات کے ساتھ ساتھ روزے رکھنے سے شیزوفرینیا کے مرض میں بھی افاقہ ہوتا ہے۔دوسری جانب روزہ مختلف اعصابی بیماریوں بشمول پارکنسنز اور الزئمرزکی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی کافی حد تک معاونت فراہم کرتا ہے، روزہ رکھنے سے نیند بہتر ہوتی ہے جبکہ حال ہی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کورونا کی وبا کے نتیجے میں جن لوگوں کی چھکنے کی حس متاثر ہوئی تھی انہیں روزے رکھنے سے فائدہ ہوا ہے۔ معروف فزیشن پروفیسر ڈاکٹر طاہر حسین نے کہا کہ کانفرنس کے دوران مختلف سائنٹیفک سیشنز میں پیش کیے گئے مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ دل، گردوں، ذیابطیس، بلڈ پریشر کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور کسی حد تک حاملہ خواتین بھی روزے رکھ سکتی ہیں، لیکن ایسے مریضوں کو رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ ضرورکرنا چاہیے ۔ معروف ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر زمان شیخ کے بموجب دل کی بیماریوں میں مبتلا ایسے مریض جوکہ باقاعدگی سے علاج کروا رہے ہو اور ان کی صحت بہتر ہو وہ روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن ایسے مریض جن کے معالجین یہ سمجھیں کہ ان کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ وہ روزے رکھ سکیں انہیں روزے رکھنے کیلئے ڈاکٹر کے مشورے پرچلنا ہوگا۔کانفرنس سے مفتی نجیب خان نے کہا کہ مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو روزے رکھنے کے حوالے سے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ علماء کرام کے مقابلے میں ڈاکٹر انہیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔ روزے کی حالت میں انگلی میں سوئی چبھوکر خون نکال کر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طریقے سے آنکھ اور کان میں دوائی کے قطرے ڈالنے اور انجکشن لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ مفتی نجیب خان نے کہا کہ اگر کسی مریض کی جان پر بن آئے تو اسے روزہ توڑ دینا چاہیے اور ایسی حالت میں اسے صرف قضا روزہ رکھنا پڑے گا۔یاد رہے کہ برصغیر میں دواپریل کو پہلا روزہ متوقع ہے ۔
رمضان میں فالج کے معاملات کم کیوں ؟
حیدرآباد ۔رمضان میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں فالج کے معاملاتکم ہو جاتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ اکثر لوگوں کا تمباکو نوشی سے گریز، بہتر بلڈ پریشر اور شوگر قابو اور روزہ رکھنے کے نتیجے میں کولیسٹرول کا کم ہونا ہے۔اس بات کا انکشاف آغا خان یونیورسٹی سے وابستہ معروف نیورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نے آٹھویں بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2022 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دو روزہ بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی اور ڈائبیٹیز اینڈ رمضان انٹرنیشنل لائسنس کے تعاون سے منعقد کی جارہی ہے۔معروف نیورولوجسٹ پروفیسر محمد واسع کے بموجب رمضان کے روزے رکھنے کے ذہنی اور اعصابی صحت کے لیے بے شمار فوائد ہیں اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزے رکھنے سے گھبراہٹ، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں میں کمی واقع ہوتی ہے، ادویات کے ساتھ ساتھ روزے رکھنے سے شیزوفرینیا کے مرض میں بھی افاقہ ہوتا ہے۔دوسری جانب روزہ مختلف اعصابی بیماریوں بشمول پارکنسنز اور الزئمرزکی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی کافی حد تک معاونت فراہم کرتا ہے، روزہ رکھنے سے نیند بہتر ہوتی ہے جبکہ حال ہی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کورونا کی وبا کے نتیجے میں جن لوگوں کی چھکنے کی حس متاثر ہوئی تھی انہیں روزے رکھنے سے فائدہ ہوا ہے۔ معروف فزیشن پروفیسر ڈاکٹر طاہر حسین نے کہا کہ کانفرنس کے دوران مختلف سائنٹیفک سیشنز میں پیش کیے گئے مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ دل، گردوں، ذیابطیس، بلڈ پریشر کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور کسی حد تک حاملہ خواتین بھی روزے رکھ سکتی ہیں، لیکن ایسے مریضوں کو رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ ضرورکرنا چاہیے ۔ معروف ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر زمان شیخ کے بموجب دل کی بیماریوں میں مبتلا ایسے مریض جوکہ باقاعدگی سے علاج کروا رہے ہو اور ان کی صحت بہتر ہو وہ روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن ایسے مریض جن کے معالجین یہ سمجھیں کہ ان کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ وہ روزے رکھ سکیں انہیں روزے رکھنے کیلئے ڈاکٹر کے مشورے پرچلنا ہوگا۔کانفرنس سے مفتی نجیب خان نے کہا کہ مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو روزے رکھنے کے حوالے سے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ علماء کرام کے مقابلے میں ڈاکٹر انہیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔ روزے کی حالت میں انگلی میں سوئی چبھوکر خون نکال کر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طریقے سے آنکھ اور کان میں دوائی کے قطرے ڈالنے اور انجکشن لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ مفتی نجیب خان نے کہا کہ اگر کسی مریض کی جان پر بن آئے تو اسے روزہ توڑ دینا چاہیے اور ایسی حالت میں اسے صرف قضا روزہ رکھنا پڑے گا۔یاد رہے کہ برصغیر میں دواپریل کو پہلا روزہ متوقع ہے ۔
