مولانا ڈاکٹر سید اویس بخاری
رمضان المبارک کی پانچ خصوصی عبادتیں ہیں وہ یا تو صرف رمضان کے ساتھ خاص ہیں یا پھر اس کا اجر و ثواب دوسرے مہینوں سے منفرد ہے ، سب سے پہلی چیز روزہ ہے ، جو صرف اللہ عز وجل کی رضا کیلئے رکھا جاتا ہے، دوسری عبادت تراویح ہے ، تیسری عبادت اعتکاف ہے ، چوتھی چیز تلاشِ شب قدر ہے اور پانچواں خصوصی انعام صدقۂ فطر ہے۔ اکثر لوگ روزہ رہ جاتے ہیں مگر تراویح کی نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں، تراویح مرد و خواتین دونوں کیلئے سنت موکدہ ہے جس کی فضیلت میں حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:اللہ تعالی نے تم پر رمضان کے روزے فرض کئے ہیں اور میں اس کے قیام تراویح کو سنت قرار دیتا ہوں،تو جو کوئی شخص ایمان اور اخلاص کے ساتھ اس مہینہ میں روزہ رکھے اور قیام(تراویح)پڑھے وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہوجاتا ہے جس دن کہ اس کی ماں نے اسے جنم دیا۔(سنن نسائی) اس حدیثِ پاک کی شرح میں امام ابن حجر عسقلانی نے بیان کیا ہے کہ حضور اکرم ﷺنے لوگوں کو دو راتیں ۲۰ رکعت نماز تراویح پڑھائی، جب تیسری رات لوگ پھر جمع ہوگئے تو آپ ﷺاُن کی طرف (حجرۂ مبارک سے باہر) تشریف نہیں لائے۔ پھر صبح آپ ﷺنے فرمایا: مجھے اندیشہ ہوا کہ (نمازِ تراویح) تم پر فرض کردی جائے گی لیکن تم اس کی طاقت نہ رکھوگے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے فرمایا کہ حضور ﷺ رمضان المبارک میں وتر کے علاوہ بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے۔(طبرانی) اس کے علاوہ حضرت سائب بن یزید بیان فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس (۲۰) رکعت تراویح اور وتر پڑھتے تھے۔ (بیہقی) بیس رکعات تراویح،یہ حضور اکرم ﷺکے عمل مبارک سے بھی ثابت ہے البتہ مکمل ایک مہینہ باضابطہ جماعت کے ساتھ بیس رکعات تراویح ادا کرنا یہ حضرت فاروق اعظم ؓ کے دور خلافت میں شروع کیا گیا،اور حضرت فاروق اعظم کے اس فیصلہ پر سارے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے اتفاق کرلیا، اس سے یہ اجماعِ صحابہ ثابت ہوا ، اس ضمن میں علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرفاروق ؓنے سب صحابہ کو حضرت ابی بن کعب ؓ کی امامت میں جمع فرمایا تو وہ بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ حضرت عمر فاروق ان خلفاء راشدین میں سے ہیں، جن کی بارے میں نبی اکرم ﷺنے فرمایا ہے کہ تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے اور اسی کو ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺنے ڈاڑھوں کا ذکر اس لئے کیا کہ ڈاڑھوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے، لہٰذا حضرت عمر فاروق ؓ کا یہ اقدام عینِ سنت ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ)جس طرح مرد حضرات پر تراویح ضروری ہے اسی طرح خواتین کیلئے بھی ضروری ہے ۔ آقا کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسد (رشک) تو بس دو آدمیوں سے ہی کرنا جائز ہے: پہلا وہ شخص جسے اللہ عز وجل نے قرآن (پڑھنا و سمجھنا) سکھایا تو وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے اس کا پڑوسی اسے قرآن پڑھتے ہوئے سنتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے کہ کاش! مجھے بھی اس کی مثل قرآن عطا کیا جاتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے؛ اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال بخشا ہے اور وہ اسے خدائے وحدہ لا شریک کی راہ میں صرف کرتا ہے۔ دوسرا شخص اسے دیکھ کر کہتا ہے: کاش! مجھے بھی اتنا مال ملتا جتنا اسے ملا ہے تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے۔