سحری کھانے میں برکت ہے کچھ نہ ہو تو پانی کے چند گھونٹ ہی پی لیا کرو اور خدا کے فرشتے سحری کھانے والوں پر سلام بھیجتے ہیں اور آپؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ’’ دوپہر کو تھوڑی دیر آرام کر کے قیام لیل میں سہولت حاصل کرو اور سحری کھا کر دن میں روزے کیلئے قوت حاصل کرو ۔ نبیؐ کا ارشاد ہے ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں صرف سحری کھانے کا فرق ہے ۔ سورج غروب ہوجانے کے بعد افطار میں تاخیر نہ کیجئے ۔ اس لئے کہ روزے کا اصل مقصود فرماں برداری کا جذبہ پیدا کرنا ہے نہ کہ بھوکا پیاسا رکھنا ۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے مسلمان اچھی حالت میں رہیں گے جب تک افطار کرنے میں جلد کریں گے ۔ روزہ افطار کرانے کا بھی اہتمام کیجئے ، اس کا بڑا اجر ہے ۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے ’’ جو شخص رمضان میں کسی کا روزہ کھوائے تو اس کے صلے میں خدا اس کے گناہ بخش دے گا اور اس کو جہنم کی آگ سے نجات دے گا اور افطار کرانے والے کو روزے دار کے برابر ثواب دے گا اور روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی ‘‘ ۔ لوگوں نے کہا ’’ یا رسول اللہ ! ہم سب کے پاس اتنا کہاں ہے کہ روزے دار کو افطار کرائیں اور اس کو کھانا کھلائیں ۔ ارشاد فرمایا صرف ایک کھجور سے یا دودھ اور پانی کے ایک گھونٹ سے افطار کرادینا بھی کافی ہے ۔رمضان میں عبادات سے خصوصی شغف پیدا کیجئے ۔ فرض نمازوں کے علاوہ نوافل کا بھی خصوصی اہتمام کیجئے اور زیادہ سے زیادہ نیکی کمانے کیلئے کمربستہ ہوجائے ۔ یہ عظمت و برکت والا مہینہ خدا کی خصوصی عنایت اور حمت کا مہینہ ہے ۔
٭٭٭٭