روسٹر سسٹم میں 4 فیصد تحفظات میں تخفیف

   


صرف 3 فیصد تک محدود ، چیف سکریٹری کے اجلاس میں عہدیداروں کی فاش غلطی
حیدرآباد۔14۔نومبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کے دشمن کون ہیںحکومت یا عہدیدار! مسلمانوں کے مسائل سے عہدیداروں کو دلچسپی نہیں ہے یا خود حکومت کے ان مسائل کو نظرانداز کرنے کے اقدامات کررہی ہے۔تلنگانہ میں مسلمانو ںکو حاصل ہونے والے فوائد کے حصول کو دانستہ نقصان پہنچایا جا رہاہے یا محکمہ اقلیتی بہبود اور مسلم عہدیدارو ںکی لاپرواہی کے نتیجہ میں مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے!ریاستی حکومت ہندو۔مسلم کو اپنی دو آنکھ کے طور پر پیش کرتی ہے اور چیف منسٹر کو ان کی جماعت کے سیاسی قائدین ملک کے نمبر ون سیکولر چیف منسٹر کے طور پر پیش کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب مسلمانو ںکو نقصان ہوتا ہے تو کوئی بھی چیف منسٹر سے ملاقات یا ان کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کی جرأت نہیں رکھتا۔ چیف سیکریٹری ریاستی حکومت مسٹر سومیش کمار کی جانب سے گذشتہ دنوں جاری کئے گئے روسٹر پوائنٹ سسٹم کا مشاہدہ کرنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس روسٹر کی تیاری کے دوران کسی مسلم عہدیدار یا محکمہ اقلیتی بہبود سے تعلق رکھنے والے عہدیدارکو شامل نہیں رکھا گیا تھا اور اگر رکھا گیا تھا تو انتہائی نااہل اور غیر ذمہ دار عہدیدار کی نگرانی میں یہ روسٹر تیار کیاگیا بلکہ اسے جاری بھی کردیا گیا ۔ مسلمانوں کو ریاست تلنگانہ میں حاصل 4 فیصد تحفظات کے معاملہ میں ریاستی حکومت کی سنجیدگی متعدد مرتبہ مشتبہ قرار پائی ہے لیکن گذشتہ دنوں جاری کئے گئے روسٹر سسٹم میں ان تحفظات کو گھٹا کر عہدیداروں نے 3فیصد کردیا ہے۔نئے روسٹر کے مطابق ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کے بعد 100میں محض 3 عہدوں پر ملازمت حاصل ہوں گی جبکہ 4 فیصد تحفظات کے اعتبار سے انہیں ہر 100 نشستوں میں 4 نشستوں کی حوالگی لازمی تھی ۔ نئے روسٹر کی اجرائی میں موجود خامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ نظرثانی شدہ روسٹر پوائنٹس کے بعد 69نمبر پر بی۔سی(ای) زمرہ کے لئے محفوظ نشست ہونی چاہئے تھی لیکن اس میں بی۔سی (بی) کا اندراج کیا گیا ہے۔ اس روسٹر کی تیاری کے دوران اگر یہ غلطی بھی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے !کیونکہ یہ کوئی معمولی غلطی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو ان کی محفوظ جائیدادوں سے محروم کرنے کی سازش کے طور پر اسے دیکھا جاسکتا ہے کیونکہ جو رویہ ریاست میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے اداروں کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے اسے دیکھتے ہوئے اسے غلطی تصور کرتے ہوئے نظرانداز کرنا نادانی کا سبب بن سکتا ہے ۔ اگر تلنگانہ راشٹرسمیتی میں شامل مسلم سیاسی قائدین اور تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی جانب سے اگر فوری طور پر اس نظرثانی شدہ روسٹر میں تصحیح کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں بی ۔سی(ای) زمرہ کے مسلم تحفظات کے لئے نئی عدالتی رسہ کشی شرو ع ہوسکتی ہے جو کہ مسلم تحفظات کو 3 فیصد کی حد تک کرنے کا سبب بننے کا خدشہ ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے دانستہ طور پر روسٹر پر نظرثانی کے دوران ایسے کئے جانے کے امکانات کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ حکومت نے دانستہ طور پر ایسا نہیں کیا ہے بلکہ غلطی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے اگر غلطی سے روسٹر کی نظرثانی کے دوران ایسا ہوا ہے تو فوری طور پر اس کی تصحیح کے اقدامات کے ساتھ روسٹر کی تیاری کو منظوری دینے والے عہدیداروں کی جامع تحقیقات کروائی جانی چاہئے ۔م