روسی حملہ میں ہلاک بیٹے کی نعش میڈیکل ریسرچ کیلئے عطیہ

   

والدین کا اعلان ، چیف منسٹر کرناٹک بومئی نے نعش کی بنگلورو منتقلی پر گلہائے عقیدت پیش کیا

بنگلورو : یوکرین میں روسی افواج کے حملے میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی طالب علم نوین کے والدین نے بیٹے کی نعش عطیہ کرنے کا اعلان کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین میں روسی افواج کے حملے میں ہلاک ہونے والے میڈیکل کے طالب علم 21 سالہ نوین شیکھرپا کی نعش کو والدین نے میڈیکل ریسرچ کیلئے عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔یوکرین پر روسی حملے میں ہندوستانی طالب علم ہلاک ہوگیا تھا ۔ رپورٹس کے مطابق نوین کے والد کا کہنا کہ میرا بیٹا میڈیکل کے شعبے میں کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا، ایسا نہیں ہوا۔ کم از کم اس کی نعش کو میڈیکل کے دوسرے طلباء پڑھائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، اسی لیے ہم نے میڈیکل ریسرچ کے لیے اس کا جسم عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے قبل جمعے کو کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ نوین کی نعش 21 مارچ پیر کو صبح 3 بجے بنگلورو ائیرپورٹ پہنچ جائے گی۔نعش کی بنگلورو منتقلی پر چیف منسٹر بومئی نے پھول مالا چڑھائی اور خراج عقیدت پیش کیا۔ یاد رہے کہ ہندوستانی طالب علم نوین یوکرین میں تعلیم کے سلسلے میں گیا تھا اورہ میڈیکل فائنل ایئر کا طالب علم تھا تاہم، یکم مارچ کو روسی فوج کے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف کے سنٹرل اسکوائر پر میزائل حملے میں اس کے ہلاک ہونے کی خبر سامنے آئی تھی۔نوین کے والد نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ میرا بیٹا میڈیکل کے شعبے میں کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا، ایسا نہیں ہوا لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا ہیکہ اس کی نعش کو عطیہ دیں تاکہ کم از کم اس کے جسم کو میڈیکل کے دوسرے طلبا پڑھائی کے لئے استعمال کرسکیں۔ اسی لیے ہم نے گھر پر ہی اس کا جسم طبی تحقیق کے لیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوکرین میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی طالب علم نوین شیکھرپا کی جسد خاکی کو آخری دیدار کیلئے رکھا گیا ہے۔ نوین کے والد نے کہا ہے کہ رسومات کے بعد نوین کی نعش ایک نجی میڈیکل کالج کو عطیہ کردی جائے گی۔
نوین خارکیف نیشنل میڈیکل یونیورسٹی میں آخری سال کا طالب علم تھا۔ یکم مارچ کو روسی گولہ باری میں نوین ہلاک ہو گیا تھا۔ کرناٹک حکومت نے نوین کے ورثہ کوپچیس لاکھ روپے کی امداد اورایک فرد کو سرکاری نوکری دینے کا اعلان کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ خارکیف میں ان کے ایک ساتھی کے مطابق گیانا گودرم اس وقت فوجی گولہ باری میں مارا گیا جب وہ قریبی دکان سے ضروری اشیاء￿ خریدنے نکلا تھا۔ ان کی موت یوکرین میں ہندوستانی طلبا میں رپورٹ ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔ جن کی تعداد تنازعہ شروع ہونے سے پہلے 18,000 کے قریب تھی۔ مرکزی حکومت نے پچھلے مہینے کے دوران کئی پروازوں کا انتظام کیا اور مرکزی وزرا کو پڑوسی ممالک میں تعینات کیا، تاکہ ان کے تیزی سے انخلاء￿ کو یقینی بنایا جا سکے