روسی صدر پوٹن سے امریکی نمائندوں کی اہم ملاقات

   

یوکرین جنگ کے خاتمہ کیلئے بات چیت کے بعد امریکی نمائند وں کی کیف واپسی، اسٹیووٹکوف اور کشنر بھی ماسکو پہنچے تھے

ماسکو:6 ستمبر( ایجنسیز)وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی ایلچیوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے دوران یوکرین جنگ کے خاتمہ کے لیے آئندہ اقدامات سے متعلق ’ٹھوس منصوبوں‘ پر بات چیت کی ہے۔ ملاقات کے بعد امریکی ایلچی اتوار کو کیف روانہ ہوگئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کاروباری ساتھی ا سٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر روسی دارالحکومت ماسکو پہنچے تھے، جہاں ان کا مقصد یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی بدترین جنگ کے خاتمہ کے لیے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کرنا تھا۔یہ جنگ سال 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں اب تک لاکھوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ رواں موسمِ گرما میں دونوں جانب سے شہریوں کی ہلاکتوں میں ڈرامائی اضافے کے باعث جنگ مزید شدت اختیار کر گئی۔کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے مذاکرات کو ’انتہائی واضح اور دوٹوک‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فریق نے ’جنگ کے تصفیے کے ممکنہ راستوں سے متعلق متعدد تجاویز پیش کیں‘، تاہم انہوں نے ان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔یوری اوشاکوف کے مطابق روسی فریق نے امریکی ایلچیوں کو بتایا کہ ماسکو کو ’یقین‘ ہے کہ وہ مشرقی یوکرین کے باقی ماندہ علاقوں پر قبضہ کرنے سمیت اپنے فوجی اہداف حاصل کر سکتا ہے۔روس اور یوکرین دونوں نے مذاکرات کے لیے تین دن تک ایک دوسرے کے دارالحکومتوں پر حملے نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف جنگ شروع ہونے کے بعد آٹھویں مرتبہ ماسکو گئے تھے، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ وہ یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچیں گے، جسے جنگ کے دوران روس کی جانب سے مسلسل مہلک حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ انہیں امریکی ایلچیوں کی اتوار کو آمد کی توقع ہے۔پوتن نے مذاکرات سے قبل ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں کہا کہ روس کیف میں امریکی ایلچیوں کی سلامتی یقینی بنائے گا، حالانکہ ماسکو نے جنگ کے دوران اس شہر پر مسلسل مہلک حملے کیے ہیں۔اس سے قبل ہفتے کے روز پوتن نے جنگ کے خاتمہ کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا تھا، حالانکہ ان کے بقول یہ کام ’آسان نہیں‘ ہے۔مذاکرات کے دوران ماسکو اور کیف دونوں نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ’روسی صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر نے حکم دیا ہے کہ آدھی رات سے تین دن تک کیف پر کوئی حملہ نہ کیا جائے۔‘