روس سے تیل خریدنے پر کسی کا دباؤ نہیں: مرکزی وزیر

   

نئی دہلی: ہندوستان نے روس سے تیل خریدنے کے حوالے سے بڑا بیان جاری کر کے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ مرکزی پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ حکومت ہند کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو توانائی فراہم کرے۔ ہندوستانی حکومت کو جہاں سے تیل ملے گا وہ خریدنا جاری رکھے گی۔ پوری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی نے بھی ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے سے منع نہیں کیا ہے۔دراصل، روس ۔یوکرائن جنگ سے پوری دنیا میں توانائی کی فراہمی کو لے کر دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں، طلب اور رسد میں عدم توازن کی وجہ سے پرانے تجارتی تعلقات بھی بگڑ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے دنیا میں تمام صارفین اور تجارت و صنعت کے لیے توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ صنعتوں کے اخراجات اور ملکوں کی معیشت پر بھی اس کے برے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔اپریل سے لے کر اب تک ہندوستان کی روس سے خام تیل کی درآمد میں 50 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان اس وقت روس سے خام تیل کی کل درآمدات کا 10 فیصد حصہ درآمد کر رہا ہے۔ یوکرین جنگ سے پہلے ہندوستان روس سے خام تیل صرف 0.2 فیصد درآمد کرتا تھا۔