ماسکو: روس میں آبادی میں کمی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے، اور اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ایک نیا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔روسی قانون سازوں نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جو کہ روسی شہریوں کی والدین بنے بغیر زندگی گزارنے کی حوصلہ افزائی کرنے والے مواد کی تشہیر پر پابندی عائد کرتا ہے۔یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب روس میں شرح پیدائش اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور صدر ولادیمیر پوٹن نے روسی خاندانوں پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ بچے پیدا کریں۔روسی پارلیمان کے ایوان زیریں دوما کے اسپیکر ویاچسلاف وولودن نے اس اقدام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، ’’ہمیں اپنی نوجوان نسل کو اس نظریے سے محفوظ رکھنا ہے جو انٹرنیٹ، میڈیا، فلموں اور اشتہارات کے ذریعہ عام لوگوں میں بچوں کے بغیر زندگی کے رویے کو فروغ دے رہا ہے۔ وولودن نے یہ بھی کہا کہ ہم بچوں، خاندانوں اور روایتی اقدار کے تحفظ کیلئے ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ بل پارلیمنٹ میں پہلی بار پیش کیا گیا ہے اور اس کی منظوری کے بعد اب اسے مکمل قانون بننے کیلئے مزید دو مراحل سے گزرنا ہو گا۔ وولودن نے اسے ’’نظریاتی جنگ‘‘ کا حصہ قرار دیا، جس میں 2023ء میں روسی سپریم کورٹ کی جانب سے ہم جنس پرستوں کے حقوق کی بین الاقوامی تحریک پر پابندی لگانے کے فیصلے کی گونج سنائی دیتی ہے۔