روس پر امریکی شکنجہ سخت، ہندوستان پر 100 فیصد تک محصولات کا خطرہ

,

   

نئی دہلی، 19 ستمبر (ایجنسیز): امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس اور ایران کے خلاف پابندیوں میں توسیع کرنے والے متنازع قانون پر دستخط کردیئے ہیں، جس کے بعد روس کے توانائی شعبہ، مالیاتی اداروں، دفاعی نظام اور ان جہازوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے جو امریکی پابندیوں سے بچتے ہوئے روسی تیل کی ترسیل میں استعمال ہوتے ہیں۔ نئے قانون میں روس سے بڑی مقدار میں تیل اور قدرتی گیس خریدنے والے ممالک پر بھی بھاری محصولات عائد کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جس کے باعث ہندوستان اور چین پر خاص توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے 16 ستمبر کو یہ قانون 159 کے مقابل 262 ووٹوں سے منظور کیا تھا، جبکہ سینیٹ اس کی منظوری 7 اگست کو 11 کے مقابل 86 ووٹوں سے دے چکا تھا۔ قانون کا نام آنجہانی امریکی سینیٹر لنڈسے او گراہم کے نام پر رکھا گیا ہے، جو روس کے خلاف سخت پابندیوں کے بڑے حامی تھے۔ صدر ٹرمپ نے 18 ستمبر کو اس قانون پر دستخط کرتے ہوئے اسے نافذ کردیا۔ قانون کی سب سے اہم دفعات میں امریکی صدر کو یہ اختیار دینا شامل ہے کہ روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے پانچ بڑے خریداروں سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 100 فیصد تک محصولات عائد کئے جاسکیں۔ اس قانون کا مقصد ایسے ممالک پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے جو روسی توانائی کی خریداری جاری رکھتے ہیں یا روس کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم یہ وضاحت اہم ہے کہ قانون ہندوستانی اشیاء پر فی الحال ازخود 100 فیصد محصول عائد نہیں کرتا، بلکہ مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں امریکی انتظامیہ کو یہ اقدام کرنے کا قانونی اختیار دیتا ہے۔ نئے قانون کے تحت روسی مصنوعات پر 500 فیصد تک اضافی محصولات عائد کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے، جبکہ روسی حکومت، عہدیداروں، مالیاتی اداروں، دفاعی شعبے، توانائی کی صنعت اور نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف پابندیوں کو مزید وسعت دی گئی ہے۔ ایران کے خلاف موجودہ پابندیوں میں بھی مزید پانچ سال کی توسیع کی گئی ہے۔

کسی کے دباؤ میں فیصلے نہیں ہونگے، ہندوستان کا ردعمل
امریکی قانون کے ہندوستان پر ممکنہ اثرات کے بارے میں سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان اپنی خارجہ پالیسی آزادانہ طور پر جاری رکھے گا اور ملک کے مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کے لئے عوام کے مفادات سب سے اہم ہیں اور وہ ایسے تمام اقدامات کرے گی جو ملک اور عوام کے لئے فائدہ مند ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کسی دوسرے ملک کے احکامات یا دباؤ کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتا بلکہ اپنے قومی مفادات، طاقت اور استحکام کو پیش نظر رکھتے ہوئے پالیسی طے کرتا ہے۔ وزیر مملکت نے امریکی محصولات کے بارے میں ہندوستان کے سابقہ موقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ ہندوستان مسلسل یہ واضح کرتا رہا ہے کہ عائد کئے جانے والے محصولات غیرمنصفانہ ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہندوستان کسی دوسری قوم کے دباؤ میں کام نہیں کرتا۔