ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گرجنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
روس اور یوکرین کے مابین جنگ ایک تشویشناک مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے ۔ یہاں سے صورتحال انتہائی نازک موڑ اختیار کرسکتی ہے ۔ جنگ کے جو ابتدائی ایا رہے تھے وہ بھی حالانکہ انسانی بنیادوں پر قابل تشویش تھے لیکن اب جس طرح سے جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور حملوں میں وسعت آتی جا رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ جنگ اب خطرناک مرحلہ میںپہونچ گئی ہے اور اس جنگ کو اگر فوری طور پر روکا نہیں جاسکا تو پھر صورتحال سنگین ہوسکتی ہے ۔ یہ جنگ دیگر علاقوںاور ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔ حالانکہ مغربی ممالک اور خاص طور پر ناٹو ممالک نے ابھی تک اس جنگ سے خود کو دور رکھا ہوا ہے کیونکہ انہیںجنگ میںشامل ہونے کے عواقب کا اندازہ ہے لیکن یہ ممالک مسلسل یوکرین کی مدد کرتے ہوئے جنگ میں توازن رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روس اس مدد سے برہم دکھائی دیتا ہے اور اس نے یوروپی ممالک کو یوکرین کی جنگی امداد کے خلاف انتباہ دیا ہے ۔ روس کی جو جنگ ہے اس کی وجوہات چاہے ابتداء میں کچھ بھی رہی ہوں لیکن اس کواگر فوری طور پر روکنے کیلئے کوشش نہیں کی گئی اوردونوں متحارب ممالک کو بات چیت کی ٹیبل پر اگر نہیں لایا جاسکا تو پھر یہ جنگ قابو سے باہر ہوسکتی ہے اوراس کی زد میں ساری دنیا آسکتی ہے ۔ پہلے ہی یہ شبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ کچھ عناصر اس جنگ کو تیسری عالمی جنگ کا نقطہ آغاز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واقعی اگر تیسری عالمی جنگ شروع ہوجاتی ہے تو حالات انتہائی ابتر اور قابو سے باہر ہوجائیں گے ۔ دنیا بھر میں پہلے ہی اس جنگ کی وجہ سے مشکل صورتحال پیدا ہونے لگی ہے ۔ کئی ممالک میںاخراجات زندگی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ تیل اور گیس کی قیمتوںمیں مسلسل اضافہ کی وجہ سے عام آدمی کیلئے جینا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ انسانی بحران کی کیفیت کئی ممالک میں پیدا ہوچکی ہے اور کئی ممالک میں بتدریج حالات اس سمت میں جا رہے ہیں۔ دنیا کے ذمہ دار ممالک کو آگ پر تیل چھڑکنے کی بجائے جنگ کو روکنے اور اسے ختم کرنے کی سمت پہل کرنے کی ضرورت ہے ۔
جہاں تک اقوام متحدہ کی بات ہے تو اقوام متحدہ تو جنگ ختم کرنے کی بجائے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے امکانات سے بھی پرامید نہیں ہے ۔ سکریٹری جنرل انٹونیوگواٹیرس نے کہا ہے کہ فی الحال یوکرین ۔ روس جنگ میں جنگ بندی کے امکانات نہیںہے ۔ جنگ بندی اور عام شہریوں کی منتقلی کیلئے اقوام متحدہ نے جو تجاویز پیش کی تھیں ان پر روس نے ابھی تک کوئی جواب نہیںدیا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاںروس نے انتہائی سخت گیر موقف اختیار کیا ہوا ہے وہیں اقوام متحدہ بھی خود بے بسی کا اظہار کررہا ہے ۔ اس سے قبل ترکی میں روس اور یوکرین کے نمائندوں کے مابین بات چیت ہوئی تھی اور یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی ۔ تاہم یوکرینی شہر بوچا میں ہوئے قتل عام اور وحشیانہ کارروائی کے بعد بات چیت میں تعطل پیدا ہوگیا اور اس تعطل کے دور ہونے کے فوری طور پر کوئی امکانات نہیں ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے تو یوکرین کے ساتھ صف بندی کرلی ہے اور وہ روس پر اثر انداز نہیں ہوسکتے ۔ اس صورتحال میںاقوام متحدہ کی ذمہ داری پہلے سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے کہ وہ جنگ بندی کی کوششوں کیلئے سرگرم ہوجائے ۔ حالات کو قابو میں کرنے سے معذوری کا اظہار کرنا اقوام متحدہ جیسے ادارہ کیلئے ٹھیک نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہی رہا تو اس ادارے کا وجود ہی بے معنی ہو کر رہ جائیگا ۔
دنیا کے اب تک غیر جانبدار ممالک کو اس سلسلہ میںآگے آنے کی ضرورت ہے ۔ اگر جنگ کی طوالت کو نہیں روکا گیا تو اس کے دوسرے علاقوں تک پھیلنے کے اندیشوں سے بھی انکار نہیںکیا جاسکتا ۔ ساری دنیا پر تباہی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ اگر اس تباہی سے دنیا کو بچانا ہے تو پھر ساری دنیا کو ایک آواز ہوکر کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر کچھ ممالک ایک جٹ ہو کر اس کیلئے آواز اٹھاتے ہیں تو پھر ان کی کوششوں کو تائید ملنی شروع ہوجائے گی ۔ کسی ایک ملک کی تائید یا دوسرے کی مخالفت کرتے ہوئے صورتحال کو بہتر نہیں بنایا جاسکتا اور دنیا پر تباہی کے جو اندیشے منڈلا رہے ہیں انہیں دور نہیںکیا جاسکتا ۔ دنیا کو تباہی سے بچانے ہر ملک کو اپنے طور پر جنگ کو ختم کروانے کیلئے کوششوں کا آغاز کرنا چاہئے ۔
