تو کہاں تھی اے اجل اے نامرادوں کی مراد
مرنے والے راہ تیری عمر بھر دیکھا کئے
یوکرین کے خلاف روس کی جنگ نے شدت اختیار کرلی ہے ۔ روس کی جانب سے حملوںکو مہلک بنایا جا رہا ہے ۔ بنیادی اوراہم تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ابتدائی ایام میں یوکرین حملوںکوبرداشت کرتا رہا تاہم اب یوکرین کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کارروائیوںکے نتیجہ میںروس کو بھی بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ صورتحال کشیدہ ہوتی جا رہی ہے ۔ شدید نقصانات ہوتے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر پر اس کے اثرات مرتب ہو نے لگے ہیں اور خاص طور پر یوروپ میںاس کے اثرات منفی ہو رہے ہیں۔روس ‘ یوکرین اور یوروپی ممالک کے عوام کو اس کی مشکلات کا شدت سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ویسے بھی دنیا کے بیشتر ممالک پر اس جنگ کے اثرات ہونے لگے ہیں۔ یوروپ کیلئے اس کے اثرات بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ اسی وجہ سے کئی یوروپی ممالک کے عوام کی زندگیاںمشکل ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کے اخراجات زندگی بڑھتے جا رہے ہیں۔ آمدنی گھٹتی گئی ہے اور اخراجات بڑھتے گئے ہیں۔ یوکرین کی جانب سے روس کے خلاف جوابی فوجی کارروائیوں کے آغاز نے جنگ کی صورتحال کو جہاں کچھ حد تک بدلا ضرور ہے وہیں اس میںشدت بھی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ روس کی جانب سے بھی شدید جوابی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ وقفہ وقفہ سے اس جنگ کی وجہ سے تیسری عالمی جنگ کے اندیشے بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ نیوکلئیر کارروائیوںکے اندیشے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ کبھی کسی فریق کی جانب سے کوئی دھمکی دی جاتی ہے تو کبھی کوئی گوشہ اس تعلق سے اپنے اندیشوں کا اظہار کرتا ہے ۔ اس صورتحال میںضرورت اس بات کی ہے کہ اس جنگ کی شدت کو بتدریج کم کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ اس جنگ کو ختم کرنے کی سمت پیشرفت ہونی چاہئے ۔ دنیا کے ذمہ دار جو ادارے ہیں انہیں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے جنگ کے خاتمہ کیلئے حرکت میںآنا چاہئے ۔ دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے اس سلسلہ میںکوششوں کی شدید ضرورت ہے ۔ اگر اس جنگ کو مزید چند ماہ طویل ہونے کا موقع دیا جاتا ہے تو اس کے اثرات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں اور انسانی زندگیوںپر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
روس اور یوکرین دونوںہی طاقتور ممالک میںشمارکئے جاتے ہیں۔ روس کی طاقت کا اندازہ تو سبھی کو ہے لیکن یوکرین بھی کچھ کم نہیں ہے اور امریکہ اور دوسرے یوروپی ممالک کی زبردست مدد کے ذریعہ یوکرین کی طاقت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ یوکرین اپنی طاقت کو بچائے ہوئے ہے اور وہ مناسب وقت پر حملے کرتے ہوئے روس کو مشکلات کا شکار کر رہا ہے ۔ کچھ ماہرین کو یہ اندیشے بھی لاحق ہیں کہ یوکرین کی جانب سے طاقت کے استعمال کے نتیجہ میں روس کو جو نقصانات ہو رہے ہیں ان کے پیش نظر روس جنگ کو کسی بھی وقت وسعت دے سکتا ہے ۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ علاقہ کے روس کے حلیف کچھ ممالک بھی کسی بھی وقت جنگ کا حصہ بن سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو جنگ کسی کے قابو میں نہیںرہے گی ۔ اس کے اثرات بھی انتہائی مہلک اور خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ جو مشکلات اس جنگ کے نتیجہ میںدنیا کو اب برداشت کرنی پڑ رہی ہیں ان میں بھی ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوسکتا ہے ۔ حالانکہ بنیادی اور ضروری اشیا کی منتقلی کو ابتدائی رکاوٹوں کے بعد کچھ حد تک بحال کرنے میں کامیابی ضرور ملی ہے لیکن اب بھی صورتحال معمول کے مطابق ہرگز نہیں ہے ۔ اس کو معمول پر لانے کیلئے بھی بہت سی کوششیںدرکار ہونگی ۔ اگر جنگ نے طوالت اور وسعت اختیار کرلی اور اس کی شدت کو کم نہیں کیا گیا تو پھر نتائج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔ کئی ممالک میں انسانی بحران پیدا ہوسکتا ہے اور یہ کسی کے لئے بھی اچھی علامت نہیں ہوسکتا ۔
عالمی برادری کے طاقتوراور ذمہ دار ممالک کو کسی ایک فریق کی تائید یا حمایت کئے بغیر جنگ کو ختم کرنے کے بنیادی مقصد کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ اقوام متحدہ جیسے ادارہ کو بھی حرکت میںآنا چاہئے ۔ کسی ایک فریق کی مخالفت یا تائید سے گریز کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے اور جنگ کو ختم کرنے کے مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کام کرنا چاہئے ۔ جب تک عالمی برادری کی جانب سے ذی اثر ممالک جنگ کو ختم کرنے کی کوشش نہیںکرتے اس وقت تک صورتحال قابو میںآنی مشکل ہے ۔ صدر پوٹن اور صدر زیلنسکی پر اثر انداز ہوتے ہوئے جنگ کے نقصانات سے انہیں واقف کروانے اورجنگ ختم کرنے کیلئے راضی کروانے کیلئے سبھی کو اپنے حصے کی کوششیں لازمی کرنی چاہئے ۔
منوگوڑ انتخاب ‘ قوانین نظر انداز
تلنگانہ کے حلقہ اسمبلی منوگوڑ میںضمنی انتخاب کی مہم اپنے عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ ٹی آر ایس ‘ کانگریس اور بی جے پی اس انتخاب کو وقار کا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔ ہر جماعت ووٹرس پر اثرانداز ہونے کی اپنے طور پر حتی المقدور کوشش کر رہی ہے ۔ تاہم اس ساری کوشش میں انتخابی قوانین اور ضابطوں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ ہر جماعت انتخابی قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہے ۔ ووٹرس کر لالچ دیتے ہوئے ان کے ووٹ حاصل نہیں بلکہ خریدے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی کوششیں ملک کی جمہوریت کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس سے جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی ہو رہی ہیں۔ اس کے ذریعہ ووٹرس پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ انتخاب آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہو رہا ہے ۔ طاقت اور پیسے کے بل پر مقابلہ کیا جا رہا ہے ۔ سیاسی جماعتوںکوا پنی روش پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ جمہوریت کی دہائی دیتے ہوئے جمہوریت کی دھجیاںاڑانے کے عمل کئے جا رہے ہیں۔ ان سے باز آجانے کی ضرورت ہے اور الیکشن کمیشن کو بھی اس پرنوٹ لیتے ہوئے سخت کارروائی کرنی چاہئے ۔
