ہندوستانی روپیہ کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلہ میں کم ہوتی جا رہی ہے ۔ اب روپئے کی جو قدر ہے وہ اب تک کی سب سے کم قدر بتائی جا رہی ہے اور اس کے نتیجہ میں ملک کی معیشت اور ملک کے کئی اہم شعبہ جات پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ روپئے کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے عوام کو بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ملک کے بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے ۔ ہندوستان جو تیل خریدتا ہے اس کی ادائیگیاں مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔ کئی شعبہ جات میں اس کی وجہ سے صورتحال مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے ۔ سابقہ حکومتوں کے دور میں روپئے کی قدر جب 65 روپئے ایک ڈالر تک پہونچ گئی تھی تو آج کی برسر اقتدار بی جے پی اور اس کے تقریبا تمام قائدین نے ہنگامہ کردیا تھا ۔ وہ حکومت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود ماضی میں ایک بیان دیا تھا کہ روپئے کی قدر گھٹنے کا مطلب یہی ہے کہ ملک کا وقار گھٹ رہا ہے ۔ آج روپئے کی قدر اپنی سب سے کم ترین شرح تک پہونچ چکی ہے ۔ اس میں مسلسل گراوٹ آتی جا رہی ہے ۔ اس کے اثرات بھی سبھی کو دکھائی دے رہے ہیں لیکن جہاں تک حکومت کا سوال ہے تو وہ اس حقیقت کو قبول کرنے اور اس کی سدباب کیلئے موثر اقدامات کرنے کی بجائے نت نئے انداز سے تاویل پیش کرتے ہوئے ملک کے عوام کو گمراہ کرنے میں ہی مصروف نظر آتی ہے ۔ وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے اپنے دورہ امریکہ کے موقع پر ایک بیان دیتے ہوئے نئی تاویل پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ نرملاسیتا رامن ویسے بھی مضحکہ خیز بیانات دینے کیلئے مشہور ہیں۔ ماضی میں انہوں نے پیاز اور لہسن کی قیمتوں کے تعلق سے کہا تھا کہ وہ ان اشیا کو استعمال نہیں کرتیں اس لئے اس کی قیمتیں انہیں نہیں معلوم ہیں۔ انہوں نے اب کہا ہے کہ وہ روپئے کی گھٹتی قدر کو اس طرح نہیںدیکھتیں کہ روپیہ کمزور ہو رہا ہے بلکہ وہ اس طرح دیکھتی ہیں کہ ڈالر کی قدر مسلسل مستحکم ہوتی جا رہی ہے ۔ اس طرح سے نرملاسیتارامن نے صرف الفاظ کے الٹ پھیر کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔
ڈالر کی قدر مستحکم ہونے کا مطلب یہی ہے کہ روپیہ کمزور ہو رہا ہے ۔ اس کی قدر میں کمی آتی جا رہی ہے ۔ نرملاسیتارامن نے امریکہ میں یہ بیان دیتے ہوئے اپنے ہی ملک کی کرنسی کی اہمیت کو گھٹانے اور ڈالر کی اہمیت کو بڑھانے کی کوشش بھی کی ہے ۔ یہ بیان ملک کے مفادات کے حق میں نہیں کہا جاسکتا ۔ بیرونی کرنسی کی ستائش کرنا ملک کی وزیر فینانس کیلئے مناسب نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ انہیں یہ وضاحت کرنی چاہئے کہ اگر روپئے کی قدر کم ہونے کی بجائے ڈالر کی قدر مستحکم ہونے کا دعوی کیا جائے تو عوام کی مشکلات میںاضافہ کیوں ہو رہا ہے ۔ کیا ڈالر کی شرح کے مستحکم ہونے کا بیان دیتے ہوئے ملک میں پیش آنے والی مشکلات کو دور کیا جاسکتا ہے ؟ ۔ کیا اس بیان کے ذریعہ ملک کے بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیا جاسکتا ہے ۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ڈالر کے استحکام کے نتیجہ میں ہی ہندوستان کو یہ مشکلات جھیلنی پڑ رہی ہیں۔ کیا یہ درست نہیں ہے کہ اسی کے نتیجہ میں عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں اور ملک کے صنعتی شعبہ پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جو صورتحال ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت اس کا اعتراف کرے ۔ حکومت کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ صورتحال مشکل ضرور ہوئی ہے اور اس کے نتیجہ میں عوام کو پریشانی ہو رہی ہے ۔ حکومت کو اپنی کرنسی کی اہمیت کو گھٹانے یا ڈالر کی ستائش کرنے سے گریز کرتے ہوئے اندرون ملک کے معاشی حالات کو بہتر بنانے اور روپئے کی قدر کو مستحکم کرنے سے متعلق اقدامات کرنے چائیں۔
روپئے کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے اس کا سب سے بہترین اندازہ خود حکومت کو ہوسکتا ہے ۔ اس صورتحال میںحکومت کو اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو اپنے طور پر حالات کا جائزہ لیتے ہوئے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ حقیقت سے انکار کرتے ہوئے نظریںچرانے کی بجائے حقیقت کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب ہم خامی کا اعتراف کریں گے تب ہی اس کو دور کرنے کیلئے اقدامات کئے جاسکیں گے ۔ الفاظ کے الٹ پھیر کے ذریعہ عوام کو تو گمراہ کیا جاسکتا ہے لیکن جو صورتحال اور مشکلات پیدا ہو رہی ہیںان کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا۔
