سرینگر : جموں و کشمیر انتظامیہ نے گزشتہ 13 سالسے ریاست میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی شناخت کے لیے 7 ارکان پر مشتمل ایک پیانل کو تشکیل دیا ہے۔ اس کا مقصد ان تمام لوگوں کو ملک بدر کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہوگا۔ پیانل کو غیر قانونی تارکین وطن کی بائیو گرافیکل اور بائیو میٹرک تفصیلات جمع کرنے اور اس کا ڈیجیٹل ریکارڈ بنانے کا کام دیا گیا ہے۔محکمہ داخلہ کے چیف سکریٹری چندراکر بھارتی نے ایک حکم نامے میں کہا کہ جموں و کشمیر میں 2011 سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی شناخت کے لیے کمیٹی کی تشکیل نو کی منظوری دی گئی ہے۔ اس پیانل کی سربراہی محکمہ داخلہ کے انتظامی سیکرٹری کریں گے۔ جبکہ اگر باقی ممبران کی بات کریں تو ان میں پنجاب کے ایف آر آر او، جموں اور سری نگر ہیڈ کوارٹر کی اسپیشل برانچ کے افسران، تمام ضلعی ایس ایس پیز اور ایس پیز (فارنرز رجسٹریشن) کے ساتھ این آئی سی بھی شامل ہیں۔یہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی طور پر رہنے والے لوگوں کے اسٹیٹس رپورٹس بھی جمع کرے گا اور تازہ ترین ڈیجیٹل ریکارڈ کو برقرار رکھے گا۔ آپ کو بتا دیں کہ سال 2021 میں جموں و کشمیر پولیس نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف مہم شروع کی تھی۔ اس میں میانمار کے 270 سے زیادہ روہنگیا جن میں 74 خواتین اور 70 بچے شامل ہیں، جوکٹھوعہ ضلع کے ہیرا نگر کی جیل میں نظر بند ہیں۔مرکزی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 40 ہزار روہنگیا غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔ زیادہ تر روہنگیا مسلمان اس وقت جموں و کشمیر، حیدرآباد، ہریانہ، اتر پردیش، دہلی-این سی آر اور راجستھان میں رہ رہے ہیں۔