ماسکو : روس نے ہفتہ کے روز بیس سے زیادہ جرمن سفارت کاروں کو ملک بدرکرنے کااعلان کیاہے جبکہ جرمنی نے فوری طورپراس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ اپنے طورپرکسی روسی سفارت کار کو ملک بدرکر رہاہے۔روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ریانووستی نے ذرائع کا حوالہ دیے بغیرکہا ہے کہ جرمنی 20 سے زیادہ روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کر رہا ہے۔جرمن وزارت خارجہ کے ایک عہدہ دار نے کہا کہ برلن اورماسکو گذشتہ چندہفتوں سے اپنی اپنی نمائندگی کے بارے میں رابطے میں تھے اورروسی حکومت کے طیارے کی برلن آمد اس مسئلے سے جڑی ہوئی ہے۔روس اورجرمنی کے درمیان تعلقات فروری 2022 میں ماسکو کے یوکرین میں اپنی مسلح افواج بھیجنے کے بعد سے خراب ہو گئے ہیں اورمغرب نے روس کی اس مسلح چڑھائی کا جواب پابندیوں سے دیا ہے اوریوکرین کو ہتھیارمہیا کیے ہیں۔اس تنازع سے قبل جرمنی روس سے تیل اور گیس کا بڑا خریدار ملک تھا۔روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جرمن حکام نے روسی سفارتی مشنوں کے ملازمین کو بڑے پیمانے پر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہم برلن کے ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں، جو روس اور جرمنی کے تعلقات کے پورے سلسلے کو نمائشی طور پرتباہ کررہا ہے۔اس نے بے دخل کیے جانے والے سفارت کاروں کی تعداد ظاہرنہیں کی، لیکن کہا کہ اس کا بے دخلی کا فیصلہ’’باہمی‘‘تھااور یہ کہ اس سے جرمن سفارت خانہ میں عملہ کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو نمایاں طور پر محدود کردیا جائے گا۔بیان میں کہاگیا ہے کہ جرمنی کے سفیرکو5 اپریل کو ہونے والے مذاکرات میں ان اقدامات کے بارے میں بتایا گیا تھا۔دوسری جانب جرمنی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے روسی بیان کا نوٹس لیلیا ہے۔