ترواننت پورم: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ حکومت تعاون پر مبنی وفاقیت پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور اس کا ماننا ہے کہ ریاستوں کی ترقی ہی ملک کی ترقی ہے ۔یہاں سنٹرل اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مسٹرمودی نے کہا کہ کیرالہ کے لوگوں کی سخت محنت اور شائستگی ان کی منفرد شناخت کی عکاسی کرتی ہے اوروہ عالمی منظر نامے کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس بات کی تعریف کرتے ہیں کہ کس طرح مشکل وقت کے درمیان ترقی کی زندہ علامت سمجھے جانے کے ساتھ ہی ہندوستان کی ترقی کے وعدے کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا، ‘‘ہم خدمت پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ملک اسی وقت تیز رفتاری سے ترقی کر سکتا ہے جب کیرالہ بھی ترقی کرے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑھتے قد کی بنیادی وجہ مرکزی حکومت کی عالمی کوششیں ہیں، جس سے بیرون ملک رہنے والے کیرالہ کے لوگوں کو فائدہ پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا، ‘‘گزشتہ نوبرسوں میں کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر پر بڑی رفتار اور پیمانے پر کام کیا گیا ہے اور اس سال کے بجٹ میں بھی انفراسٹرکچر پر 10 لاکھ کروڑ سے زیادہ خرچ کرنے کی تجویز ہے ۔
مودی نے کیرالا سے پہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کو جھنڈی دکھائی
ترواننت پورم: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز ترواننت پورم سنٹرلر ریلوے اسٹیشن سے کیرالا کی پہلی وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی۔ یہ سروس ترواننت پورم اور کاسرگوڈ کے درمیان شروع کی گئی ہے ۔ وندے بھارت ایکسپریس ٹرین میں بہت ساری جدید خصوصیات ہیں جیسے آرام دہ سواری، ٹرین کے تصادم سے بچنے کیلئے آرمچر، چیئر کار میں ایرگونومک ریکلیننگ سیٹیں، بہتر انٹیریئر، آگ سے تحفظ، کوچز میں سی سی ٹی وی اور گارڈ اور ڈرائیور سے بات کرنے کی سہولت۔ وندے بھارت ٹرین کیرالا کے 11 اضلاع بشمول ترواننت پورم، کولم، کوٹائم، ایرناکلم، تھریسور، پلکاڈ، پٹھان متھیٹا، ملاپورم، کوزیکوڈ، کننور اور کاسرگوڈ کا احاطہ کرے گی۔ یہ 586 کلومیٹر کا فاصلہ 8 گھنٹے میں طے کرے گی اور ہفتے میں چھ دن (جمعرات کے علاوہ) چلے گی۔ کوچز کی تعداد 16 ہو گی۔ ترواننت پورم اور کاسرگوڈ کے درمیان صرف آٹھ گھنٹے اور پانچ منٹ کے سفر کے وقت کے ساتھ، ان اسٹیشنوں کے درمیان موجودہ تیز ترین ٹرین – ترواننت پورم – حضرت نظام الدین راجدھانی ایکسپریس کو بھی نو گھنٹے لگتے ہیں۔
ریلوے ذرائع کے مطابق یہ ٹرین کننور، کوزیکوڈ، پلکاڈ، تھریسور، ایرناکولم، الاپپوزا اضلاع سے کیرالہ کے دارالحکومت تک تیز رفتار رابطہ فراہم کرے گی۔
پبلک ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کا شعبہ ملک میں مکمل تبدیلی سے گزر رہا ہے ۔ ہم ہندوستانی ریلوے کے سنہری دور کی طرف بڑھ رہے ہیں۔” وزیر اعظم نے کہا کہ اب تک جتنی بھی وندے بھارت ٹرینیں ہیں، وہ ثقافتی، روحانی اور سیاحتی اہمیت کے مقامات کو جوڑ رہی ہیں۔ کیرالہ کی پہلی وندے بھارت ٹرین ریاست کے شمالی حصے کو جنوبی حصے سے جوڑے گی۔ یہ ٹرین کولم، کوٹائم، ایرناکولم، تھریسور اور کنور جیسے تیرتھ مقامات کو عیقدتمندوں کے لیے قابل رسائی بنائے گی۔ انہوں نے سیمی ہائبرڈ ٹرین، ریجینل ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم، رو-رو فیری اور روپ ویز جیسے حل کودرج کیے تاکہ کنیکٹیویٹی کے لیے مخصوص حالات کے حل کی وضاحت کی جاسکے ۔ انہوں نے میڈ ان انڈیا، وندے بھارت اور میٹرو کوچز کے مقامی ڈیزائن اور چھوٹے شہروں میں میٹرو لائٹ اور اربن روپ وے جیسے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔مسٹر مودی نے کوچی واٹر میٹرو کو میڈ ان انڈیا پروجیکٹ کا حصہ بتاتے ہوئے اس کے لئے بندرگاہوں کے ترقی کے لئے کوچی شپ یارڈ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ کوچی واٹر میٹرو کوچی کے آس پاس کے جزیروں میں رہنے والے لوگوں کو نقل و حمل کے جدید اور سستے ذرائع فراہم کرے گی، بس ٹرمینل اور میٹرو نیٹ ورک کے درمیان انٹرموڈل کنیکٹیویٹی بھی فراہم کرے گی۔ اس سے شہر میں ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے کے علاوہ ریاست میں بیک واٹر ٹورازم کو فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فزیکل کنیکٹیویٹی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بھی ملک کے لیے ایک ترجیح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترواننت پورم میں ڈیجیٹل سائنس پارک جیسے پروجیکٹ ڈیجیٹل انڈیا کو فروغ دیں گے ۔اس موقع پر وزیر اعظم نے 3200 کروڑ روپے سے زیادہ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور انہیں قوم کے نام وقف کیا۔ ان پروجیکٹوں میں کوچی واٹر میٹرو کا افتتاح اور مختلف ریل پروجیکٹس اور ڈیجیٹل سائنس پارک کا سنگ بنیاد رکھنا شامل ہے ۔ اس سے پہلے انہوں نے ترواننت پورم اور کاسرگوڈ کے درمیان چلنے والی وندے بھارت ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔